فرانسیسی صدر کا اسلام مخالف بیان ، معروف فرانسیسی فٹبالر کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

پال پوگبا فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کے بیانات کو اپنی اور فرانسیسی مسلمانوں کی توہین سمجھتے ہیں

پیر اکتوبر 20:45

فرانسیسی صدر کا اسلام مخالف بیان ، معروف فرانسیسی فٹبالر کا ریٹائرمنٹ ..
پیرس (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 26 اکتوبر2020ء) فرانسسی صدر کے اسلام مخالف بیانات کے بعد فرانس اسٹار فٹبالر پال پوگبا نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔تفصیلات کے مطابق فرانس کے ورلڈ کپ جیتنے والے فٹ بالر پال پوگبا نے فرانس کے صدر ایمانویل میکرون کے اسلام مخالف بیانات کے بعد بین الاقوامی فٹ بال چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔بتایا گیا ہے پال ہوگبا نے فرانسیسی صدر کے بیانات کو ناپسند کیا تھا اور وہ ان بیانات کو اپنی اور فرانسیسی مسلمانوں کی توہین سمجھتے تھے کیونکہ فرانس میں عیسایت کے بعد اسلام دوسرا مذہب ہے۔

حالیہ صورتحال میں فرانس اسٹار فٹبالر پال پوگبا نے فٹ بال ٹیم چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔قبل ازیں ترک صدر طیب اردوان نے فرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

(جاری ہے)

ترک صدرنے دارالحکومت انقرہ میں ایک تقریب کے دوران یورپی ملک فرانس کے سیاستدانوں کو آڑے ہاتھوں لیا ، طیب اردوان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون اسلام پر زبان درازی کرکے اپنی حد سے تجاوز کررہے ہیں، یہ بیان بدتمیزی سے بڑھ کر اشتعال انگیزی ہے ، ان کے بیانات دنیا بھر میں مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بن رہے ہیں، مغربی ممالک کی حکومتیں نسل پرستی اور اسلام دشمنی کی سرپرستی کررہی ہیں اور یہ عمل ان کے اپنے معاشرے کیلئے کسی صورت ٹھیک نہیں ہے ، یورپی ممالک کے سیاستدان اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے مسلم دشمنی کو استعمال کررہے ہیں۔

جب کہ وزیراعظم عمران خان نے گستاخانہ خاکوں پرفرانسیسی صدر کے اسلام مخالف بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر نے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا، میکرون کو انتہا پسندوں کو موقع نہیں دینا چاہیے تھا ، اتوار کو وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں فرانسیسی صدر میکرون کے اسلام مخالف بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لیڈر کی پہچان یہ ہے کہ وہ لوگوں کو متحد کرتا ہے، فرانسیسی صدر کو دنیا کو تقسیم کرنے کے بجائے معاملات کو حل کرنا چاہئے تھا ، انہوں نے کہاکہ دنیا کو تقسیم کرنے سے انتہا پسندی مزید بڑھے گی ، نیلسن منڈیلا نے لوگوں کو تقسیم کرنے کے بجائے متحد کیا ، دنیا کو تقسیم کرنے سے انتہا پسندی مزید بڑھے گی، توہین آمیز خاکوں کے ذریعے اسلام پر حملے لاعلمی کا نتیجہ ہیں۔