حکومتی ادارے تحفظ نہیں دے سکتے ، مدارس خودسیکورٹی انتظامات کریں،مولانا فضل الرحمن

جو لوگ کہتے ہیں دہشت گردی ختم ہوگئی، پشاور دھماکہ ان کے منہ پرطمانچہ ہے فرانس نے نبی کریمؐ کے خاکوں کی اشاعت کرکے مسلمانوں کی دل آزاری کی ،حکومت تجارتی و سفارتی تعلقات ختم کرے،پاکستانی عوام فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں ، امیرجمعیت علماء اسلام (ف) کی سکھر میں پریس کانفرنس

منگل اکتوبر 19:15

حکومتی ادارے  تحفظ نہیں دے سکتے ، مدارس خودسیکورٹی انتظامات کریں،مولانا ..
سکھر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 27 اکتوبر2020ء) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر اور پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ پشاور واقعے پر دلی دکھ اور افسوس ہوا ، بزدلانہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ، دینی مدرسے میں چھوٹے بچوں کو نشانہ بنایا گیا، تمام شہداء، ان کے ورثاء اور زخمیوں کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں ، حکومت اور حکومتی ادارے اگر ہمیں تحفظ فراہم نہیں کرسکتے ، تمام مدارس اپنی سیکیورٹی کے انتظامات خود کریں۔

جو کہتے ہیں دہشت گردی ختم ہوگئی، پشاور دھماکہ ان کے منہ پرطمانچہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منزل گاہ سکھر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر جے یوآئی کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا راشد محمود سومرو، قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مفتی اسعد محمود ، مولانا سعود افضل ہالیجوی، مولانا صالح اندھڑ ودیگر بھی موجود تھے،مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خوف و ہراس اور دھماکوں کی پیشن گوئیاں کرتے ہیں تو سب سے پہلے نظر ان کی طرف جائے گی ، یہ لوگ اس صورتحال میں اپنی کمزوری کا اظہار کررہے ہیں۔

(جاری ہے)

مولانا فضل الرحمن نے صحافیوں سے اپنے خطاب میں کہا کہ فرانس کے صدر کی ہدایات پر گستاخانہ خاکوں کو عمارتوں پر آویزاں کیا گیا، اس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے جو کہ ایک جرم ہے، فرانس کو یاد دلانا چاہتا ہوں افغانستان میں طالبان کی حکومت کے دوران بامیان کے اندر بدھا کے بت کو توڑنے کی کوشش کی تھی، اس کے اگلے روز میری فرانس کے سفیر سے میری ملاقات طے تھی تو انہوں نے میری ملاقات منسوخ کردی تھی، اگر حکمران خود ایسا اقدام کرتا ہے تو وہ مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کرتا ہے ، پاکستانی عوام فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں ، ایسے ممالک کے ساتھ تجارتی روابط ختم کردینا چاہیئں ، یہ لوگ مذہب کے حوالے سے بے حس ہوچکے ہیں ، کسی نبی بر حق کی توہین برداشت نہیں یہ سوچ عقل اور فلسفہ ہمیں قبول نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام آنے والے جمعہ کے دن سے ملک گیر احتجاج کا آغاز کرے گی، آنے والے جمعے سے اگلے جمعے تک پورا ہفتے کو فرانس کے قبیح عمل کیخلاف ملک بھر میں "ہفتہ احتجاج" کے طور پر منانے کا اعلان کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم اس حکومت کو سیلیکٹڈ حکومت کہتے ہیں ، یہ بتائیں کہ دونوں میں سے کون سیلیکٹڈ ہے ، ملک میں عوامی بیداری ہے اور عام آدمی اس وقت بے بس ہے ، اس صورتحال میں کیا عوام کی ترجمانی ہمیں نہیں کرنی چاہیئے، پی ڈی ایم کے جلسے میں وہ عوام آئے ہیں جو اس حکومت سے پریشان ہیں ،27 اکتوبر کا دن کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ہے، ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب ایک انتقامی ادارہ ہے جو اپوزیشن کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم جلسے میں تمام پارٹیوں نے شرکت کی، عوام کی مرضی ہیکہ وہ پی ڈی ایم کے جلسے میں کسی کا جھنڈا بھی لے کر شرکت کریں ، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سندھ کے جزائر کے اوپر سندھ کے عوام کا حق ہے ، وفاق کو یہ حق نہیں کہ وہ سندھ کے جزائر پر قبضہ کرے، انہوں نے واضح کیا کہ پی ڈی ایم کے جلسے تب تک ہونگے جب تک یہ قوم کو اس کے ووٹ کی امانت واپس نہیں کریں گے ، انہوں نے کہا کہ میڈیا ورکرز کے معاشی بحران کے حوالے سے ہم صحافی بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، جمہوری ملک میں میڈیا کنٹرولڈ ہے، عمران خان جب بھی کوئی بات کرتا ہے، بونگی ہی مارتا ہے، اگر عمران خان سنجیدہ ہے تو عوام کی جان و مال کی حفاظت اس کی ذمہ داری ہی