اپنی ہی 13 سالہ بیٹی اور مرحوم بھائی کی 9 سالہ معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا مجرم سزائے موت سے بچ گیا

فیصل آباد کی سیشن کورٹ نے مجرم کو 2 بار عمرقید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنا دیا، عوام کے پرزور مطالبے کے باوجود موجودہ پاکستانی قانون کے مطابق جنسی زیادتی کے مجرم کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی، حکومت قوانین میں ترمیم کے ذریعے جنسی زیادتی کے ملزمان کو عبرت ناک سزائیں دلوانے کیلئے کوشاں

جمعرات نومبر 19:53

اپنی ہی 13 سالہ بیٹی اور مرحوم بھائی کی 9 سالہ معصوم بچی کو زیادتی کا ..
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26نومبر2020ء) اپنی ہی 13 سالہ بیٹی اور مرحوم بھائی کی 9 سالہ معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والا مجرم سزائے موت سے بچ گیا، فیصل آباد کی سیشن کورٹ نے مجرم کو 2 بار عمرقید اور 2 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنا دیا، عوام کے پرزور مطالبے کے باوجود پاکستانی قانون کے مطابق جنسی زیادتی کے مجرم کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔

تفصیلات کے مطابق سیشن کورٹ فیصل آباد نے 13سالہ بیٹی اور9 سالہ بھتیجی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے مجرم کو2 بار عمرقید اور2 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنا دیاہے۔مقدمہ کی تفصیلات کے مطابق پولیس تھانہ صدر فیصل آباد میں 19 جون 2018 کو ایک خاتون اقبال بی بی زوجہ رستم علی کی جانب سے درج کروائے گئے مقدمہ میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ اس کا خاوند رستم علی سکنہ 214 رب گلشن رحیم اپنی13 سالہ بیٹی سمیرا کوثر اور مرحوم بھائی اکرم کی9 سالہ یتیم بیٹی کو2 سال تک زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔

(جاری ہے)

پولیس نے مقدمہ کی تفتیش کے دوران جرم ثابت ہونے پرچالان مکمل کرکے عدالت میں پیش کیا جس کا فیصلہ سناتے ہوئے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج فیصل آباد امتیاز ندیم نے جمعرات کے روز مجرم کو2 بار عمرقید اور2 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنایا جبکہ عدم ادائیگی جرمانہ پر مجرم رستم علی کو مزید ایک سال قید با مشقت کی سزا بھی بھگتنا ہوگی۔

یہاں واضح رہے کہ لاہور میں موٹروے زیادتی کیس کے بعد ملک بھر میں بچوں اور خواتین کیساتھ جنسی زیادتی کیسز تشویش ناک حد تک رپورٹ ہونے لگے، جس کے بعد عوام کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسے گھناونے جرم کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ جنسی درندوں کو سرعام پھانسی دی جائے، یا انہیں نامرد بنا دیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی جنسی زیادتی ملزمان کو نامرد بنانے کی حمایت کی، جبکہ کئی وفاقی وزراء نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو سرعام پھانسی دی جائے۔

تاہم وفاقی وزیر برائے شیریں مزاری نے اس پر اعتراض کرتے ہوئے بتایا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے تحت پاکستان میں سرعام پھانسی جیسی سزائیں دینا ممکن نہیں۔ جبکہ قانونی ماہرین کے مطابق ملک کے موجودہ قوانین میں جنسی زیادتی کے ملزمان کو پھانسی کی سزا نہیں دی جا سکتی، تاہم اب حکومت نے قوانین میں ترامیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔