Live Updates

اسلام آباد ہائیکورٹ کا کورونا متاثرین کی بحالی کے لیے جعلی این جی او بنانے سے متعلق کیس میں برہمی کا اظہار

ایف آئی اے نے دو خواتین کی فیس بک لڑائی پر مقدمہ درج کرلیا اگر فیس بک لڑائی پر ایف آئی اے کارروائی کرنے لگے تو پھر اصل کام کون کرے گا جسٹس اطہر من اللہ فیس بک جھگڑے پر ایف آئی اے کیسے کاروائی کرسکتا ہی ، عدالت نے رپورٹ طلب کرلی

پیر نومبر 22:40

اسلام آباد ہائیکورٹ کا کورونا متاثرین کی بحالی کے لیے جعلی این جی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 نومبر2020ء) اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ کی عدالت نے کورونا متاثرین کی بحالی کے لیے جعلی این جی او بنانے سے متعلق کیس میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ایف آئی اے نے دو خواتین کی فیس بک لڑائی پر مقدمہ درج کرلیا اگر فیس بک لڑائی پر ایف آئی اے کارروائی کرنے لگے تو پھر اصل کام کون کرے گا فیس بک جھگڑے پر ایف آئی اے کیسے کاروائی کرسکتا ہی ، عدالت نے رپورٹ طلب کرلی۔

(جاری ہے)

گذشتہ روز رمشا نامی خاتون کی ایف آئی اے کارروائی کے خلاف درخواست پرسماعت کے دوران عدالت نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ایف آئی اے نے محض درخواست پر ایک خاتون کے تمام اکاونٹس بلاک کرادیے،آج تو ہر بات انٹرنیٹ کے ذریعے ہوتی ہے کیا ایف آئی اے ہر کیس پر پیکا قانون لگا دے گا سائبر کرائم قانون پر ایف آئی اے کے پاس کتنے تربیت یافتہ تفتشیی افسران ہیں چیف جسسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کی خاتون افسر سے استفسار کیاکہ کیا آپ کو سائبر کرائم سے متعلق کوئی ٹریننگ بھی کروائی گئی ہے جس پر خاتون افسرنے جواب دیاکہ ہمیں سائبر قانون پر ایک ماہ کی ٹریننگ دی گئی،عدالت نے کہاکہ ایک مہینے میں تفتیشی افسران کو سائبر قانون کا کیا سکھایا گیا ہو گا تفتیشی افسر نے کہاکہ سائبر کرائم قوانین سے متعلق ہمیں بنیادی نوعیت کی ٹریننگ دی گئی تھی، رمشا اور ثوبیہ سعدیہ نامی خواتین دونوں کی جانب سے درخواست موصول ہوئی تھی،خواتین کے درمیان کورونا متاثرین کی بحالی کے نام پر تنظیم بنانے اور اس میں فنڈز کے استعمال پر جھگڑا تھا،عدالت نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتے تک ملتوی کردی۔

کرونا وائرس کی دوسری لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات