نواز شریف اسٹیبلیشمنٹ کیخلاف نریندر مودی کی زبان بول رہے ہیں

پلس کنسلٹنٹ کے سروے میں عوام کی اکثریت نے قائد ن لیگ کی مخالفت کر دی، 51 فیصد لوگوں کی رائے میں اسٹیبلیشمنٹ مخالف بیانیہ دراصل بھارت کا موقف ہے

muhammad ali محمد علی ہفتہ دسمبر 00:19

نواز شریف اسٹیبلیشمنٹ کیخلاف نریندر مودی کی زبان بول رہے ہیں
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 04 دسمبر2020ء) نواز شریف اسٹیبلیشمنٹ کیخلاف نریندر مودی کی زبان بول رہے ہیں، پلس کنسلٹنٹ کے سروے میں عوام کی اکثریت نے قائد ن لیگ کی مخالفت کر دی۔ تفصیلات کے مطابق پلس کنسلٹنٹ نامی ادارے کی جانب سے حال میں کروائے گئے سروے کے دوران عوام سے نواز شریف کے بیانیے سے متعلق سوال کیا گیا۔ سروے کے دوران ملک بھر کے ہزاروں لوگوں کی رائے شامل کی گئی۔

نواز شریف اور ن لیگ کی جانب سے اسٹیبلیشمنٹ مخالف بیانیے کی مقبولیت کے دعوے کیے جاتے ہیں، تاہم سروے نتائج کچھ اور ہی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ سروے کے دوران عوام کی اکثریت نواز شریف کے اسٹیبلیشمنٹ مخالف بیانیے کی مخالفت کرتے نظر آئے۔ 5 فیصد افراد نے کہا کہ نواز شریف کا بیانیہ بھارت کا موقف ہے، قائد ن لیگ فوج کیخلاف نریندر مودی کی زبان بول رہے ہیں۔

(جاری ہے)

جبکہ 23 فیصد افراد نے کہا کہ نواز شریف کا فوج مخالف بیانیہ صرف سیاسی بیان بازی ہے۔ سروے کے دوران عوام کی اکثریت نے پی ڈی ایم تحریک کو غیر موثر بھی قرار دیا، کہا کہ اس تحریک سے حکومت کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ جبکہ مسلم لیگ ن کے اندر توڑ پھوڑ کے حوالے سے سے بھی لوگوں کی اکثریت یہی رائے رکھتی ہے کہ نواز شریف کے حالیہ بیانیے کی وجہ سے پارٹی اندرونی طور پر توڑ پھوڑ کا شکار ہو گی۔

یہاں واضح رہے کی ن لیگ اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ پی ڈی ایم تحریک کو عوام میں پذیرائی حاصل ہوئی، اگلے سال کے آغاز میں عوام کا سمندر اسلام آباد کا رخ کرے گا اور حکومت گھر چلی جائے گی۔ تاہم حالیہ کچھ عرصے کے دوران مختلف اداروں کی جانب سے کروائے گئے سرویز کے نتائج کے مطابق اپوزیشن جماعتیں حکومت مخلاف تحریک کیلئے عوام میں زیادہ مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہیں۔