پاکستان سعودی عرب تعلقات میں کسی اور کی وجہ سے دوری پیدا نہیں ہو سکتی ہے، طاہر اشرفی

سعودی عرب کی سلامتی و استحکام اور خود مختاری کے خلاف کوئی بھی قدم قبول نہیں کیا جا سکتا، معاون خصوصی

ہفتہ فروری 17:23

پاکستان سعودی عرب تعلقات میں کسی اور کی وجہ سے دوری پیدا نہیں ہو سکتی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 فروری2021ء) پاکستان سعودی عرب تعلقات لازوال ہیں، پاکستان سعودی عرب تعلقات میں کسی اور کی وجہ سے دوری پیدا نہیں ہو سکتی ہے ، سعودی عرب کی قیادت پاکستان اور عالم اسلام کیلئے محترم ہے اور سعودی عرب کا امن و سلامتی و استحکام پاکستان سمیت پوری مسلم امہ کو عزیز ہے ، خاشقجی سعودی عرب کے شہری تھے اور اس حوالہ سے سعودی عرب کے اقدامات پر اسلامی تعاون تنظیم سمیت تمام مقتدر حلقے اطمینان کا اظہار کر چکے ہیں۔

یہ بات چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے عرب ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی و استحکام اور خود مختاری کے خلاف کوئی بھی قدم قبول نہیں کیا جا سکتا۔

(جاری ہے)

سعودی عرب کے ولی عہد امیر محمد بن سلمان کے خلاف روز اول سے ایک منفی پراپیگنڈہ مہم جاری ہے۔

امیر محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں اعتدال کی پالیسیوں کو تقویت دی ہے اور امیر محمد بن سلمان کے ویڑن 2030 کا مقصد سعودی عرب سمیت اسلامی عرب ممالک کو معاشی طور پر مستحکم کرنا اور مضبوط بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی رپورٹ سے پاکستان سعودی عرب تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ عالم اسلام میں سعودی عرب اور اس کی قیادت سے محبت اور احترام پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔

خاشقجی سعودی عرب کے شہری تھے اور ان کا مقدمہ سعودی عرب میں ان کی فیملی کی موجودگی میں چلایا گیا اور فیصلہ کو خاشقجی فیملی نے قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام عرب اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات میں مزید استحکام آر ہا ہے، مصر کے ساتھ تعلقات میں دس سال بعد بہت بہتری پیدا ہوئی ہے،کویت ، عراق سے اچھی خبریں آ رہی ہیں، عراقی وزیر دفاع کا پاکستان کا دورہ اور پاکستانی وزیر خارجہ کا مصر کا دورہ پاکستان کے مستقبل کے معاشی ، اقتصادی ، سیاحتی ، ثقافتی اور دفاع کے شعبوں میں تعلقات کی تقویت کا سبب ہوں گے۔

ماضی کی حکومت نے پاکستان کو عرب اسلامی دنیا سے دور کیا تھا ،آج الحمدللہ ہماری قربتیں ماضی کے دس سال سے زیادہ ہیں۔ایک سوال کے جواب میں حافظ محمدطاہر محمود اشرفی نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں خرابی نہیں دیکھتا ، امریکی حکام سعودی عرب کے ولی عہد کے دفتر کے ساتھ ہی کام کرتے رہیں گے ، سعودی عرب کمزور ملک نہیں ہے کہ جہاں پر خواہشات پر تبدیلی واقع ہو جائے۔ سعودی عرب کی قیادت اور عوام ایک ہیں اور سعودی عرب کی عوام اپنی قیادت سے محبت رکھتے ہیں۔