بیوروکریسی نیب کے احتساب کے خوف سے کام نہیں کررہی

یہی وجہ ہے کہ ملک میں کام کم اور کرپشن زیادہ ہے،معاون خصوصی وزیراعظم بتابش گوہر

Sajjad Qadir سجاد قادر جمعرات اپریل 03:05

بیوروکریسی نیب کے احتساب کے خوف سے کام نہیں کررہی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 اپریل2021ء) نیب نے جس طرح سے کارروائی کر کے اور لوگوں کو اثاثوں کی تفصیلات کی جواب طلبی کا سلسہ شروع کیا ہے اس سے ہر بزنس مین،بیوروکریٹ اور سیاستدان دبک کر بیٹھا ہوا ہے کہ کہیں سامنے آنے سے نیب کے ریڈار پر نہ آ جائیں۔اب تک کئی پلی بارگین کے کیس ہو چکے اور دیگر پر کارروائیاں جاری ہیں لیکن ایک تاثر یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نیب کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں میں خوف پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے کہا کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے خوف سے بیوروکریسی فیصلے کرنے سے گریزاں ہے۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے (آئی پی پیز) کو ادائیگیوں میں تاخیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ نیب کے پاس ہے اور 40 آئی پی پیز کو تقریباً 400 ارب روپے سے زیادہ کی ادائیگی التوا کا شکار ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا جب واجب الادا رقم کی ادائیگیوں کا مسئلہ حل ہو گا تب ہی کے-الیکٹرک کو شنگھائی الیکٹرک کے حوالے کرنے سے متعلق معاملات آگے بڑھیں گے۔تابش گوہر نے کہا کہ کے-الیکٹرک کی ادائیگیوں اور دیگر قانونی پیچیدگیوں کے حوالے سے تاثر غلط تھا، سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت چاہتی ہے کہ تمام زیر التوا رقوم جلد سے جلد ادا کر دی جائے اور قانونی مسائل حل ہوں۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی پاور سمیت کے-الیکٹرک کا کوئی بھی خریدار ہو تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، دو کروڑ صارفین کی خدمت کرنے والا یہ ادارہ گزشتہ 4سال سے تذبذب کا شکار ہے اور اس کی باگ ڈور ایسے ادارے کو منتقل ہونی چاہیے جو مزید سرمایہ کاری کر سکے اس لیے حکومت اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تمام تر کوششیں کررہی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ریکوڈک یا ماضی میں ہارے گئے کیسوں کے ڈر سے ہم اپنے اصولی مؤقف سے دستبردار نہیں ہو سکتے، بین الاقوامی عدالت ہو یا مقامی عدالت، ہم اپنے مؤقف میں سرخرو ہوں گے۔