چھٹیس گڑھ میں بھارتی فوج پر ہونے والا حملہ 4 سال کے دوران سب سے بڑا حملہ قرار

حملے کی وجہ سے اب تک کل 30 فوجی ہلاک ہو چکے، باغیوں کے اس حملے کی تصدیق بھارتی میڈیا نے بھی کی: سینئر صحافی صابر شاکر

muhammad ali محمد علی جمعرات اپریل 20:28

چھٹیس گڑھ میں بھارتی فوج پر ہونے والا حملہ 4 سال کے دوران سب سے بڑا حملہ ..
نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 اپریل2021ء) چھٹیس گڑھ میں بھارتی فوج پر ہونے والا حملہ 4 سال کے دوران سب سے بڑا حملہ قرار۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی صابر شاکر کی جانب سے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت میں دنوں ہلچل مچی ہوئی ہے۔ بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں باغیوں کی جانب سے فوجیوں پر 4 سال کے دوران سب سے بڑا حملہ کیا گیا ہے۔

صابر شاکر کے مطابق حملے کی وجہ سے اب تک کل 30 فوجی ہلاک ہو چکے جبکہ باغیوں کے اس حملے کی تصدیق بھارتی میڈیا نے بھی کی ہے۔ اس حوالے سے بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 4 روز قبل ریاست چھتیس گڑھ میں ہوئے ماؤ نواز باغیوں کے حملے میں اب تک 30 فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے، جبکہ درجنوں اہلکار اب بھی زیر علاج ہیں۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ ایک بھارتی فوجی اہلکار تاحال لاپتہ بھی ہے۔

حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کے مزید دستے چھتیس گڑھ کے جوناگوڑا گاؤں میں پہنچائے جا چکے ہیں۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن باغیوں کے سرگرم رکن مادوی ہڈما کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر شروع کیا گیا۔ اس دوران باغیوں اور سیکورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو 4 گھنٹے تک جاری رہا۔ آپریشن کے دوران تقریباً 2000 کے قریب اہلکاروں نے حصہ لیا تاہم جیسے ہی اہلکاروں نے جنگل میں گھسنے کی کوشش کی اسی دوران باغیوں نے حملہ کردیا۔

بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ آپریشن میں ماؤ باغیوں کو بھی شدید جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تاہم حملے کی جگہ سے صرف ایک خاتون کی لاش برآمد ہوئی۔ حملے میں بڑے پیمانے پر بھارتی فوجیوں کے جانی نقصان پر بھارتی صدر اور وزیراعظم نریندر مودی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک اہلکاروں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ اہلکاروں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ جبکہ بھارتی اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس تمام واقعے کی تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔