Live Updates

ایک لفظ جو گالی بنتا جا رہا ہے: ’اسے یوں تو استعمال نہ کریں‘

DW ڈی ڈبلیو پیر 14 جون 2021 18:20

ایک لفظ جو گالی بنتا جا رہا ہے: ’اسے یوں تو استعمال نہ کریں‘

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 14 جون 2021ء) برلن میں وفاقی جرمن حکومت کے نامزد کردہ اس اہلکار کا نام ژُرگن ڈُوزل ہے اور وہ معذور افراد سے متعلقہ امور کے نگران عہدیدار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جرمن معاشرے میں لفظ 'معذور‘ (behindert) کے استعمال میں زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر اس وجہ سے بھی کہ جرمنی کے بہت سے اسکولوں میں نوجوان طلبا و طالبات کی بڑی تعداد آپس کی گفتگو میں اس لفظ کو ایسے استعمال کرنے لگی ہے کہ یہ لفظ کسی انسان کی معذوری کو بیان کرنے کے بجائے ایک گالی بنتا جا رہا ہے۔

معذور ہونا کم تر ہونا نہیں ہوتا

جرمن نشریاتی ادارے آر این ڈی کے تعلیم اور طالب علموں سے متعلق پوڈکاسٹ پروگرام 'اسکول آور‘ میں حصہ لیتے ہوئے ژُرگن ڈُوزل نے اپنے موقف کے حق میں کئی مثالیں بھی دیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جرمن اسکولوں میں اس لفظ کا نوجوانوں کی طرف سے آپس کی گفتگو میں باہمی تضحیک و تذلیل کے لیے استعمال بڑھتا جا رہا ہے اور اس رجحان کو روکنے کی ضرورت ہے۔

مسئلہ حساسیت کا ہے!

مشرقی یورپ، وسطی ایشیا: معذور افراد کی خود انحصاری ایک خواب

انہوں نے کہا، ''کیا تم بالکل ہی معذور ہو؟ کتنی معذوروں والی بات کی تم نے؟ اب اتنے معذور تو نہ بنو۔ تمہارا کچھ نہیں ہو سکتا، تم تو پورے معذور ہو۔ ان تمام مثالوں میں اس لفظ کا استعمال بظاہر ایک بےضرر گالی کے طور پر کیا گیا ہے۔‘‘ ژُرگن ڈُوزل کے مطابق سماجی اور نفسیاتی طور پر ایسے جملوں کے پیچھے وہ نادانستہ تعصب اور ذہنی لاپرواہی کار فرما ہوتے ہیں، جن سے بولنے والے خود بھی آگاہ نہیں ہوتے مگر جو حقیقی معذوری کا شکار افراد کے لیے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔

'زبان شعور پر اثر انداز ہوتی ہے‘

ژُرگن ڈُوزل خود بھی معذور ہیں۔ ان کی جسمانی معذوری بینائی سے متعلق ہے۔ انہیں دکھائی تو دیتا ہے مگر انتہائی کم۔ انہوں نے اس 'اسکول آور‘ پوڈکاسٹ میں کہا کہ خود انہیں دوران تعلیم اپنے اسکول میں کبھی یہ تجربہ نہیں ہوا تھا کہ کسی نے 'معذور‘ یا 'معذوری‘ کے الفاظ کو کسی کو گالی دینے یا برا بھلا کہنے کے لیے استعمال کیا ہو۔

ذہنی طور پر معذور شہری بھی اب ووٹ دے سکیں گے

''اب لیکن اس لفظ کا بہت سے جرمن اسکولوں میں طالب علموں کے مابین روزمرہ کی گفتگو میں استعمال مسلسل زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس رجحان کو نئی نسل کو اپنی گفتگو کے لیے الفاظ کے زیادہ بہتر اور مناسب چناؤ کے ساتھ اس لیے روکنا چاہیے کہ ہم جو الفاظ استعمال کرتے ہیں، وہ ہمارے شعور اور طرز فکر پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

‘‘

معذور افراد بھی مساوی حقوق کے حامل شہری

وفاقی جرمن حکومت کے معذوروں سے متعلقہ امور کے نگران عہدیدار ژُرگن ڈُوزل نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث معمول کی عوامی زندگی کو جو دھچکے لگے، ان کے تدارک کے لیے حکومت نے جو منصوبے تشکیل دیے ہیں، ان میں معذور شہریوں کی خصوصی ضروریات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

بیناؤں کے حقوق کی جنگ لڑنے والے نابینا زاہد عبداللہ

انہوں نے مزید کہا کہ صرف یہی نہیں کہ ہر کسی کو یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ وہ معاشرے میں معذوروں اور ان کی معذوری کا کس بھی پس منظر میں ذکر کس طرح اور کن الفاظ میں کرتا ہے، بلکہ ساتھ ہی سرکاری اور عوامی شعبوں کے علاوہ نجی شعبے کے آجر اداروں کو بھی یہ کوششیں کرنا چاہییں کہ وہ جسمانی معذوری کے شکار افراد کے لیے روزگار کی منڈی میں زیادہ سے زیادہ مواقع کو یقینی بنائیں۔

م م / ع ح (کے این اے)

پاکستان میں کرونا وائرس کی چوتھی لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات