وفاقی حکومت نے اگیگا سے کئے گئے وعدوں میں سے ابھی تک کوئی بھی پورا نہیں کیا ، بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکر گرینڈ الائنس

بلوچستان کے ملازمین کا ایک بار پھر بیوگا کے پلیٹ فارم سے سخت اور فیصلہ کن احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اصولی فیصلہ

پیر 14 جون 2021 21:40

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 جون2021ء) بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکر گرینڈ الائنس نے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کے تنخواہوں میں 10فیصداضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ سال اسلام آباد میں آل پاکستان ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا )کے پلیٹ فارم سے پاکستان بھر کے ملازمین کی تاریخ ساز احتجاج جس میں بیوگا کا کلیدی کردار تھا تین وفاقی وزرا شیخ رشید ،پرویز احمد خٹک ،علی محمد خان کے ساتھ تحریری معاہدے میں درجہ ذیل وعدے کئے تھے جن میں وفاقی اور صوبائی سرکاری ملازمین گریڈ 1 تا19 کے تنخواہوں میں تفاوت ختم کرنے کے لیے یکم مارچ 2021 سے ڈی آر اے 25 دینے کا وعدہ کیا تھاسالانہ بجٹ 2021-22 میں تمام ایڈہاک الاونسز کوبنیادی تنخواہ میں ضم کر کے خاطر خواہ اضافے کے ساتھ ڈی آر اے 25فیصد کو بھی بنیادی تنخواہ کا حصہ بنانے کا وعدہ کیا ،پاکستان بھر کے ان تمام ملازمین جو اپ گریڈیشن سے محروم تھے اپ گریڈ کرنے کا وعدہ کیا اس تحریری معاہدے کے بعد وفاقی ملازمین کوڈی آر اے پچیس فیصد دیا گیا پنجاب اور خیبر پختونخواہ حکومتوں نے اعلانات کیے مگر بلوچستان ابھی تک کچھ نہیں کیا۔

(جاری ہے)

یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بیوگا قائدین نے اتھارٹیز سے مذاکرات کرکے ڈی آر اے 25فصد یکم مارچ سے وفاق کے طرز پر دینے کی استدعا کی مگر وعدہ وعید ہوتے گئے اور بلوچستان ایمپلائز اینڈ ورکرز گرینڈ الائنس نے ہاکی چوک پر پرامن اور تاریخ ساز احتجاجی دھرنا دیا دوران دھرنا بیویگا قائد ین نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ متعدد میٹنگ کیے مگر صرف وعدے وعید کے علاوہ کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا12 دنوں کے تاریخ ساز اور پرامن دھرنے کو معزز عدالت کی مداخلت پر ختم کیا گیااور معزز عدالت نے اپنے ایک تفصیلی میں 25فیصد اور دیگر حل طلب ڈیمانڈ کا ایک مہینے کے اندر اندر نوٹیفکیشن جاری کر نے کی واضح ہدایت جاری کیں 11 جون کو پیش ہونے والی وفاقی بجٹ میں تین وزراء کا ملازمین کے ساتھ تحریری معاہدے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ملازمین کو ایک بار پھر احتجاج پر مجبور کیا گیا اس کے علاوہ بلوچستان ہائی کورٹ سے جاری ہونے والے فیصلے کا ایک مہینہ مکمل ہونے کو ہے مگر افسوس صد افسوس حکومت اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گے گزشتہ روز بیوگا کے ایگزیکٹو کونسل کے میں متفقہ فیصلہ کی روشنی میں حکومت کو تین دن کے اندر اندر ان تمام معاملات کا عملی طور پر نوٹس،عملی اقدامات اٹھانے کے لیے مراسلہ ارسال کیا گیا جس میں حکومت سے عدالتی فیصلے کی میعاد پوری ہونے پرڈی آر اے 25 اور دیگر ڈیمانڈ حل کرنے کے لیے اقدامات اٹھانے کی استدعا کی گی مگر حکومتی ہٹ دھرمی کی وجہ سے بلوچستان کے ملازمین نے ایک بار پھر بیوگا کے پلیٹ فارم سے سخت اور فیصلہ کن احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے اس احتجاجی تحریک اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان ایک دو روز میں پریس کانفرنس میں کیا جائے گا۔