11 سالہ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا

واقعہ کی اطلاع ملنے پر نامعلوم ملزموں کے خلاف مقدمہ درج، شک کی بنیاد پر تین افراد کے نمونے لے کر ڈی این اے کےلئے بھیج دئیے گئے، پولیس

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری جمعرات جون 22:53

11 سالہ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا
گلگت بلتستان(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔17جون 2021ء) گلگت بلتستان میں انتہائی افسوسناک واقعہ، 11 سالہ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا- تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان میں 11 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا۔واقعہ گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں پیش آیا۔پولیس کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملنے پر نامعلوم ملزموں کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے۔

پولیس کے مطابق شک کی بنیاد پر تین افراد کے نمونے لے کر ڈی این اے کےلئے بھیج دئیے گئے ہیں۔ ملک بھر میں چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں بڑھوتری دیکھنے میں آئی ہے، ایسا ہی ایک واقعہ چند روز قبل کراچی میں پیش آیا- کراچی کے یتیم خانے کے ہوسٹل ملازم نے 16 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا تھا جبکہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے پولیس کاکہنا تھا کہ 16 سالہ کنز فاطمہ کو ہوسٹل ملازم نے زیادتی کا نشانہ بنا دیا ،واقعہ کا مقدمہ جمشید تھانے میں درج کرلیا گیا ہے ،پولیس نے ملزم مہدی حسن کو گرفتار کرلیا ۔ پولیس کاکہناہے کہ ملزم مہدی حسن زوہرا ہومز نامی فلاحی ادارے میں اکاؤنٹس کے شعبہ میں ملازم تھا ،ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔واضح رہے کہ آج ہی کے روز ایسا ہی افسوسناک واقعہ شکر گڑھ میں پیش آیا، جہاں شادی شدہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا، ملزمان نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی۔

ملزمان نے اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ دو ماہ قبل کا ہے۔جب ملزمان نے شکر گڑھ تھانہ کوٹ نیناں کی حدود ٹرپئی کی خاتون کو گندم کے کھیتوں میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور ویڈیو بھی بنائی۔بتایا گیا کہ خاتون کی 10 سال قبل چک بھرائیاں میں شادی ہوئی ،2 ماہ قبل وہ والدین سے مل کر میکے سے چک بھرائیاں اپنے سسرال جا رہی تھی کہ راستے میں 3 اوباش نوجوانوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور ایک اوباش نے وہیں پر گندم کے کھیتوں میں زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ دیگر دو نوجوانوں نے قریبی باغ میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور ویڈیوز بھی بنائیں ، متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزمان نے زیادتی کی اور ویڈیوز بناکر بلیک میل کرتے رہے ،شادی شدہ تھی عزت کے مارے چپ رہی ، ملزمان پیسوں اور بار بار ملنے کا تقاضا کرتے تھے ، نہ ماننے پر ویڈیوز وائرل کردیں۔