بنوں میں لڑکے سے زیادتی اور ویڈیو بنانے والے ملزمان اپنے انجام کو پہنچ گئے

14 سالہ بچے کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ، ملزمان کی جانب سے بچے کو ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرکے بھاری رقم وصول کیے جانے کا انکشاف، پولیس نے ملزمان کا گرفتار کر لیا

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری جمعرات جون 23:28

بنوں میں لڑکے سے زیادتی اور ویڈیو بنانے والے ملزمان اپنے انجام کو پہنچ ..
بنوں (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔17جون 2021ء) بنوں میں 14 سالہ بچے کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ، ملزمان کی جانب سے بچے کو ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کرکے بھاری رقم وصول کیے جانے کا انکشاف، پولیس نے ملزمان کا گرفتار کر لیا- تفصیلات کے مطابق بنوں میں لڑکے سے زیادتی اور ویڈیو بنانے والے دو ملزمان کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا۔ تھانہ غوریوالا کے علاقے میں دو ملزمان نے 14 سال کے لڑکے سے جنسی زیادتی کی اور ویڈیو بھی بنائی۔

ملزمان نے بچے کے والد سے 70 ہزار روپے کا مطالبہ کیا اور نہ دینے کی صورت میں ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دی۔ ملزمان نے 40 ہزار روپے وصول کر لیے ، باقی پیسوں کا مطالبہ کرتے رہے ، جس پر والد نے پولیس کو رپورٹ کی۔ واضح رہے کہ ملک بھر میں چھوٹے بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں بڑھوتری دیکھنے میں آئی ہے، ایسا ہی ایک واقعہ چند روز قبل کراچی میں پیش آیا- کراچی کے یتیم خانے کے ہوسٹل ملازم نے 16 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا تھا جبکہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔

(جاری ہے)

اس حوالے سے پولیس کاکہنا تھا کہ 16 سالہ کنز فاطمہ کو ہوسٹل ملازم نے زیادتی کا نشانہ بنا دیا ،واقعہ کا مقدمہ جمشید تھانے میں درج کرلیا گیا ہے ،پولیس نے ملزم مہدی حسن کو گرفتار کرلیا ۔ پولیس کاکہناہے کہ ملزم مہدی حسن زوہرا ہومز نامی فلاحی ادارے میں اکاؤنٹس کے شعبہ میں ملازم تھا ،ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے۔واضح رہے کہ آج ہی کے روز ایسا ہی افسوسناک واقعہ شکر گڑھ میں پیش آیا، جہاں شادی شدہ خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا، ملزمان نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر دی۔

ملزمان نے اغوا کے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ دو ماہ قبل کا ہے۔جب ملزمان نے شکر گڑھ تھانہ کوٹ نیناں کی حدود ٹرپئی کی خاتون کو گندم کے کھیتوں میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور ویڈیو بھی بنائی۔بتایا گیا کہ خاتون کی 10 سال قبل چک بھرائیاں میں شادی ہوئی ،2 ماہ قبل وہ والدین سے مل کر میکے سے چک بھرائیاں اپنے سسرال جا رہی تھی کہ راستے میں 3 اوباش نوجوانوں نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور ایک اوباش نے وہیں پر گندم کے کھیتوں میں زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ دیگر دو نوجوانوں نے قریبی باغ میں زیادتی کا نشانہ بنایا اور ویڈیوز بھی بنائیں ، متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزمان نے زیادتی کی اور ویڈیوز بناکر بلیک میل کرتے رہے ،شادی شدہ تھی عزت کے مارے چپ رہی ، ملزمان پیسوں اور بار بار ملنے کا تقاضا کرتے تھے ، نہ ماننے پر ویڈیوز وائرل کردیں۔