شوکت ترین نے وزیراعظم عمران خان سے سینیٹر منتخب کرانے کی امید لگا لی

پورا یقین ہے عمران خان مجھے سینیٹر منتخب کروائیں گے، چینی کی قیمت مزید نہیں بڑھنے دیں گے، یکم اکتوبر سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔ وفاقی وزیرخزانہ کی سلام آباد میں پریس کانفرنس

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل 14 ستمبر 2021 20:19

شوکت ترین نے وزیراعظم عمران خان سے سینیٹر منتخب کرانے کی امید لگا لی
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 ستمبر 2021 ) وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے وزیراعظم عمران خان سے سینیٹر بنانے کی امید لگا لی، انہوں نے کہا کہ پورا یقین ہے عمران خان مجھے سینیٹر منتخب کروائیں گے، چینی کی قیمت مزید نہیں بڑھنے دیں گے، یکم اکتوبر سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق کچھ نہیں کہہ سکتا۔ انہوں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آرسے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں توسیع کرنے کا کہوں گا۔

انہوں نے کہا کہ مئی میں گندم کی ریلیز بند کردی تھی لیکن اب دوبارہ شروع کردی گئی ہے،گندم کی ریلیز پرائز 19 سو روپے کردی ہے جس کے بعد آئند چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں غیرمعمولی کمی ہوجائے گی، کورونا اور طلب اور رسد میں تعطل کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر روز مرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ قیمتوں کے استحکام کے لیے پیداوار بڑھانا ہوگی جبکہ سبزیوں کی قیمت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا وزیر خزانہ نے کہا کہ آلو، پیاز، ٹماٹر سمیت روز مرہ کی چیزوں کی قیمتوں میں مقامی سطح پر اضافے کے بعد جائزہ لینا ہوگا کہ آیا منڈی میں مہنگے دام فروخت ہونے والی سبزیوں کو برآمد کرنا چاہیے یا نہیں۔

انٹرنیشنل پریس ایجنسی کے مطابق شوکت ترین نے کہا کہ ہم بین الاقوامی قیمتوں سے لنک ہوگئے ہیں ہم ہمیں جائزہ لینا ہوگا کہ کاشت ہونے والی سبزی سے لیکر خوردہ فروش کا کتنا کتنا فائدہ ہے اور یقینی طور پر یہ منافع بہت ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ کسان کو اتنا منافع نہیں ملتا جتنا خوردہ فروش کماتا ہے اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے ”سائنٹیفک پروسیز ری انجینئرنگ“ کررہے ہیں. شوکت ترین نے کہا کہ کاشت کار سے لیکر مارکیٹ میں فروخت ہونے تک کے تمام مراحل کی سائنٹیفک بنیاد پر مطالعہ ہوگا کہ کون کتنا فیصد منافع وصول کررہا ہے اور قیمتوں میں اضافے کی وجوہات میں کون کون شامل ہوتاہے۔

علاوہ ازیں گندم کی ریلیز پرائز پر بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے مئی میں گندم کی ریلیز پرائز بند کردی تھی تاہم اسے دوبارہ شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں ماہ سے ہی مخصوص اشیا پر سبسڈی دینے کا دعویٰ کیا. وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سے قبل مخصوص اشیا پر سبسڈی کا عمل پہلے نہیں تھا کیونکہ پہلے صرف گیس اور بجلی کے ٹیرف پر سبسڈی دے رہے تھے انہوں نے بتایا کہ اب چینی، دال، سبزیوں کے لیے کیش سبسڈی دیں گے اور نیم متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی 45 فیصد نفوس کو کیش سبسڈی ملے گی۔