خطے میں امن کے قیام سے خوشحالی آئیگی،امن کیلئے قوم نے بھاری قیمت ادا کی جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائیگا، اسد قیصر

پر امن اور مستحکم افغانستان کے خواہاں ہیں، افغانستان میں قیام امن سے خطے میں روابط کو فروغ ملے گا ،معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا،سپیکر کا مالم جبہ سوات میں ینگ پارلیمنٹرین کی تقریب سے خطاب

ہفتہ 16 اکتوبر 2021 13:49

خطے میں امن کے قیام سے خوشحالی آئیگی،امن کیلئے قوم نے بھاری قیمت ادا ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 اکتوبر2021ء) سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ خطے میں امن کے قیام سے خوشحالی آئیگی،امن کیلئے قوم نے بھاری قیمت ادا کی جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، پر امن اور مستحکم افغانستان کے خواہاں ہیں، افغانستان میں قیام امن سے خطے میں روابط کو فروغ ملے گا ،معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا،نوجوان پارلیمنٹرین کا کردار قابل ستائش ہے نوجوانوں کو ہر شعبے میں آگے بڑھنے کیلئے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے، بین الاقوامی حالات بدل رہے ہیں ، پاکستان پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ہمیں دنیا کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا،محنت اور لگن سے کام کریں تو کامیابی آپ کے قدم چومے گی ،معاشرہ بھی آپ کی قدر کریگا،انسان جتنی بڑی سوچ کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس انسان سے اتنا ہی بڑا کام لیتا ہے۔

(جاری ہے)

مالم جبہ سوات میں ینگ پارلیمنٹرین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام سے خوشحالی آئیگی،امن کیلئے قوم نے بھاری قیمت ادا کی ہے جسے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانیاں دی ہیں،ہم اس خطے میں امن چاہتے ہیں اور امن کا قیام خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن آنے سے خطے میں ترقیاتی اور خوشحالی آئیگی،پاکستان ایک پر امن اور مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن سے خطے میں روابط کو فروغ ملے گا جس سے معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گا، خطے میں امن کے قیام سے تعمیر و ترقی کا حصول ممکن ہو سکے گا۔انہوں نے کہا کہ خطے میں قیام امن کیلئے اپنی مصالحانہ کاوشیں جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سابق فاٹا کے اضلاع کے لیے پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کر رہا ہے اور بہت جلد فاٹا میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ نوجوان پارلیمنٹرین کا کردار قابل ستائش ہے نوجوانوں کو ہر شعبے میں آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چیلنجز درپیش ہیں جن کے تدارک کیلئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے، ان چیلنجز کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنی پارٹی کے اندر جدوجہد کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی حالات بدل رہے ہیں جس کے پاکستان پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ہمیں دنیا کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گلوبل سیاست پر سیمینار منعقد ہونے چاہیے تاکہ سیاستدانوں سمیت عوام کو آگاہی حاصل ہو سکے۔ اسد قیصر نے کہا کہ سوات کا علاقہ بہت زیادہ جنگ زدہ علاقہ رہا اس علاقے میں امن کے قیام کے لیے عوام نے قربانی دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری قوم جنگ سے گزری ہے جس کی وجہ سے ملک کو معاشی مسائل کا سامنا ہے،ہمیں بحیثیت پارلیمنٹرین رولز اور آئین کا پتا ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جب انسان پختہ ارادہ کرتا ہے تو اللہ پاک کی مدد شامل حال ہو جاتی ہے،اچھی امید رکھنی چاہیے مثبت سوچ سے ہی انسان دنیا کا کامیاب انسان کہلاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محنت اور لگن سے کام کریں کامیابی آپ کے قدم چومے گی اور معاشرہ بھی آپ کی قدر کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی جماعت کا نو سال صوبائی صدر رہا ہوں،وزیراعظم عمران خان نے مجھے صدر مملکت بننے کا کہا تھا۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں بسنے والا ہر انسان بہت اہم ہے اور وہ بہت کچھ کر سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کے فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے میں انسان کی سوچ اور نیت بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان جتنی بڑی سوچ کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس انسان سے اتنا ہی بڑا کام لیتا ہے۔اسد قیصر نے کہا کہ بہت سارے وزراء اعظم آئے اور چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ تاریخ ان کو یاد رکھتی ہے جو انسانیت کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے سامنے ایک مشن اور مقصد رکھنا ہے،اپنی منزل تک پہنچنے کیلئے مزید جدوجہد کرنی ہے۔