حلقہ این اے 133 کے ضمنی الیکشن میں (ن) لیگ کا کسی سے مقابلہ نہیں، خواجہ سعد رفیق

عام انتخابات میںتحریک انصاف کو جن لوگوں نے ووٹ دئیے تھے وہ حکومتی کارکردگی کے باعث مایوس ہوچکے ہیں

ہفتہ 4 دسمبر 2021 19:16

حلقہ این اے 133 کے ضمنی الیکشن میں (ن) لیگ کا کسی سے مقابلہ نہیں، خواجہ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 04 دسمبر2021ء) پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ آج بروز اتوار لاہور کے حلقہ این اے 133 میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کا پاکستان پیپلز پارٹی سے کوئی مقابلہ نہیں کیونکہ مذکورہ حلقہ کے نشست پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نشست ہے اس لئے اس موضع پر بات کرنا فضول ہے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ایم ایل این پنجاب کے صدر نے کہا کہ 2018ء کے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو جن لوگوں نے ووٹ دئیے تھے ووٹ حکومتی کارکردگی کے باعث پی ٹی آئی سے مایوس ہوچکے ہیں انہوں نے پی ٹی آئی کے ورکروں سے اپیل کی کہ وہ آج گھروں سے نکلیں اور شیر کے نشان پر ووٹ ڈال کر اپنا حق رائے دیہی استعمال کریں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے ورکرز اور ووٹرز بھی آج شیر کے نشان پر مہر لگائیں گے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ وہ بعض باتیں فرنٹ فٹ پر آکر نہیں کرنا چاہتے۔

(جاری ہے)

پیپلز پارٹی سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں سے پارلیمان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کا اتحاد ہے جسے نقصان نہیں پہنچانا چاہتا انہوں نے کہا کہ این اے 133 کے ضمنی الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی امیدوار شائستہ پرویز کے مدد مقابل پاکستان پیپلز پارٹی کے جو امیدوار کھڑے ہیں وہ ان کی دل سے عزت کرتے ہیں۔ ان کی جمہوریت کی بحالی میں بہت قربانیاں ہیں اور ان کی جمہوری جدوجہد کو میں تسلیم کرتا ہوں لیکن پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ان کی جدوجہد کو داغ دار کردیا ہے انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کا واقعہ ایک دلخراش واقعہ ہے اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ عوام میں قوت برداشت کم ہو کر رہ گئی ہے آپ جب اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے اور مخالفین کی حکومتیں گرانے کے لئے جتھیں بنائیں گے اور ان جتھوں کو اپنے مفاد میں استعمال کریں تو اس قسم کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک کی عوام نے حال ہی میں مذہب کے نام پر ہونے والا افسوسناک اور دلخراش واقعہ دیکھ لیا ہے۔ انہوں نے آئندہ چند روز میں وفاقی حکومت کی جانب سے ممکنہ طور پر پیش کئے جانے والے منی بجٹ سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو بغیر سوچے سمجھے پراپرٹی کی مارکیٹ پرائز فکس کرتا ہے تو منی بجٹ نے آنا ہی ہوتا ہے جب حکمران آٹا چور، چینی چور اور گیس چوروں کے خلاف کارروائی نہیں کریں گے تو پھر حکمران منی بجٹ کا ہی سہارا لیتے ہیں انہوں نے تمام جمہوری قوتوں سے اپیل کی کہ وہ مذہب کے نام پر جتھوں کے استعمال کے خلاف اس ایک نکتے پر متفق ہو جائیں۔