سیالکوٹ میں مزید کردار بے نقاب، پولیس نے مزید 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا

گرفتار ملزمان میں چھت پر لوگوں کو اکٹھا کرنے والے ملزم سکندر،ہجوم میں ڈنڈے سے لیس ملزم احمد شہزاد، تشدد کے لیے اکسانے کی پلاننگ میں ملوث زوہیب شامل ہیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر 6 دسمبر 2021 10:50

سیالکوٹ میں مزید کردار بے نقاب، پولیس نے مزید 7 ملزمان کو گرفتار کر ..
سیالکوٹ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 06 دسمبر 2021ء ) گذشتہ ہفتے سیالکوٹ میں پیش آنے والے سری لنکن شہری کے قتل کے افسوسناک واقعے میں مزید 7 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پنجاب پولیس کے مطابق سیالکوٹ میں ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے پریانتھا کمارا پر تشدد کے لیے چھت پر لوگوں کو اکٹھا کرنے والے ملزم سکندر کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔پریانتھا کمارا پر تشدد کرنے والے ہجوم میں شامل ملزم راشد، ہجوم میں ڈنڈے سے لیس ملزم احمد شہزاد، تشدد کے لیے اکسانے کی پلاننگ میں ملوث زوہیب، ملزم محمد ارشاد ، سبحن اور عمیر علی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

سیالکوٹ کیس میں اب گرفتار ملزمان کی تعداد 132 ہو گئی ہے۔اب تک کی تحقیقات کے مطابق گرفتار ،ملزمان میں 26 کا ملزرکری کردار سامنے آیا ہے۔

(جاری ہے)

قبل ازیں انسپکٹر جنرل پنجاب راؤ سردار نے کہا کہ سیالکوٹ واقعے میں پولیس کی کوتاہی ثابت نہیں ہوئی، 160 فوٹیجز کی روشنی میں گرفتاریاں کی جائیں گی، سیالکوٹ کے افسوسناک واقعے کا آغاز 10 بج کر2 منٹ پرہوا جب کہ 11 بجے تک پریا نتھاکمارا کی ہلاکت ہوچکی تھی ، پولیس11 بج کر 28 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچی ، واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس نے فوری طورپر حکام کوآگاہ کیا ، ڈی پی او اور ایس اپی پیدل چل کر وہاں پہنچے، واقعے کے بعد راستے بلاک تھے اس میں پولیس کی کوتاہی ثابت نہیں ہوئی، اگر واقعے میں پولیس کی کوئی کوتاہی ہوئی تو اس کا جائزہ لیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ 13 مرکزی ملزمان میں وہ لوگ ہیں جو ادھر میڈیا کو بھی انٹرویوز میں بیان حلفی دیتے رہے ، واقعے میں سارے ملزم تو قاتل نہیں ہر ملزم کا کردار طےکیا جائے گا اور تفتیش میں طے کریں گے کس ملزم کا کیا رول تھا ، مزید گرفتاریوں کے لیے بھی 10 ٹییمیں بنائی گئی ہیں ، واقعے کے مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں ، آر پی او اور ڈی پی او 24 گھنٹے چھاپوں کی نگرانی کررہے ہیں۔

متعلقہ عنوان :

>