Live Updates

پارلیمنٹ اور اسمبلیاں غیرفعال‘ فیصلے ماورائے آئین ہوتے ہیں، شاہد خاقان عباسی

فوج اور عدلیہ آئینی دائرہ اختیار سےنکل کر ملکی معاملات پر اثر انداز ہوتے ہیں‘ موجودہ سیاسی نظام مسائل کے حل کی اہلیت نہیں رکھتا‘ انتقام اور نفرت کی سیاست میں مکالمے کی گنجائش نہیں رہتی۔ سابق وزیراعظم کا انٹرویو

Sajid Ali ساجد علی بدھ 25 جنوری 2023 17:00

پارلیمنٹ اور اسمبلیاں غیرفعال‘ فیصلے ماورائے آئین ہوتے ہیں، شاہد ..
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین ۔ 25 جنوری 2023ء ) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی نظام ملکی مسائل کے حل کی اہلیت نہیں رکھتا، سیاسی جماعتوں میں اختلافی نقطۂ نظر سننے کی گنجائش ختم ہوچکی، پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں غیر فعال ہیں اور فیصلے ماورائے آئین ہوتے ہیں، ملک کو گھمبیر صورتِ حال سے نکالنے کے لیے سب اداروں کو بیٹھ کر سوچنے کی ضرورت ہے جو نہیں ہو رہا۔

تفصیلات کے مطابق ’وائس آف امریکہ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا جب سیاست انتقام، دشمنی اور نفرت میں بدل جائے تو مکالمے کی گنجائش نہیں رہتی، پاکستان میں سیاست کو اسی نہج پر پہنچا دیا گیا ہے اور جب مسائل اس نہج پر پہنچ جائیں تو ان کا حل تلاش کرنا چاہیے، اس کے لیے ’ری امیجنگ پاکستان‘ کے فورم سے گفتگو کا آغاز کیا ہے، قومی مسائل پر مباحثے کا مقصد سیاسی جماعتوں کو جگانا ہے اور حل تلاش کرنا ہے، مسائل کا حل آئین کے اندر ہے لیکن یہ حل معاملات سے وابستگی میں ہے، اقتدار کی تلاش میں نہیں۔

(جاری ہے)

سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک میں بہت سے فیصلے ماورائے آئین ہوتے ہیں اور فوج و عدلیہ اپنے آئینی دائرہ اختیار سے باہر نکل کر ملک کے معاملات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور جب آپ ملک کے معاملات پر اثر انداز ہوتے ہیں تو اس کے اثرات ہوتے ہیں، اس کی ذمہ داری بھی آپ پر آئے گی، چاہے آئین کے اندر ہوں یا باہر آج ہم سب کو اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) حزبِ اختلاف میں تھی تو تمام ضمنی انتخابات جیتے۔ تاہم اقتدار میں آنے کے بعد حالات میں استحکام لانے کے لیے مشکل فیصلے لینا پڑے، اس کی سیاسی قیمت کی ادائیگی کا پہلے سے ادراک تھا لیکن مسلم لیگ (ن) نے اپنی سیاست کو ملک کے لیے قربان کیا کیوں کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے آئی ایم ایف پروگرام میں ہوتے ہوئے 100 روپے کم قیمت پر پیٹرول دیا جس سے ماہانہ ایک ارب ڈالر کا قومی خزانے پر بوجھ پڑا اور موجودہ سیاسی و معاشی حالات میں ملک کو تین ماہ کے عرصے کے لیے نگران حکومت پر نہیں چھوڑا جاسکتا، نہ ہی پاکستان فوری عام انتخابات کا متحمل ہوسکتا ہے۔
Live ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر سے متعلق تازہ ترین معلومات