انفرادی سطح پر فارن ایکسچینج کی خرید و فروخت کے حوالے سے آگاہی سیشن کا انعقاد

ایکسچینج کمپنیوں کا قیام جعلی کرنسی کے خطرے کو کم کرے گا‘صدر لاہور چیمبر آف کامرس کاشف انور

جمعرات 8 اگست 2024 19:40

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 اگست2024ء) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے انفرادی سطح پر غیر ملکی زرمبادلہ کی خرید و فروخت کے حوالے سے ایک کامیاب آگاہی سیشن کا انعقاد کیا۔صدر لاہور چیمبر نے افتتاحی خطاب میں آگاہی سیشن کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد شرکاء کو فارن ایکسچینج کی خرید و فروخت کے طریقہ کار کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کرنا ہے۔

ایم سی بی ایکسچینج کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر نذیر اور ہیڈ آف ہیومن ریسورس شیر افگن نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔لاہور چیمبر کے صدر کاشف انور نے کہا کہ سٹیٹ بینک نے تمام کمرشل بینکوں کو فارن ایکسچینج کی طلب و رسد کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری سونپتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی ایکسچینج کمپنیاں قائم کریں اور ملک بھر کی اہم شاخوں میں خصوصی کاؤنٹر قائم کریں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک بہت بڑی سہولت ہے۔ اگر کسی کو میڈیکل اخراجات، تعلیم یا سفر کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کی ضرورت ہے تو یہاں انہیں بہت اچھے ریٹس ملیں گے، جو وہ بائیومیٹرک تصدیق کے بعد حاصل کر سکتے ہیں۔صدر لاہور چیمبر نے کہا کہ ان کاؤنٹرز پر خصوصی عملہ عوام کو فارن ایکسچینج کی خرید و فروخت کے حوالے سے خدمات فراہم کرنے کے لیے موجود ہو گا۔

یہ ایک بہت مثبت قدم ہے کیونکہ اب تک 10 کمرشل بینکوں نے اپنی ایکسچینج کمپنیاں شروع کر دی ہیں اور مزید دو بینک آنے والے دنوں میں یہ کام شروع کرنے والے ہیں۔کاشف انور نے کہا کہ ان ایکسچینج کمپنیوں کے قیام سے جعلی کرنسی کے خطرے کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ایک بڑی سہولت یہ ہے کہ اب کسی کو فارن ایکسچینج کے لین دین کے لیے نقد رقم ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ بینک اکاؤنٹ کے ذریعے آن لائن ادائیگی کی جاسکتی ہے۔

ایم سی بی ایکسچینج کمپنی کے ہیڈ آف ہیومن ریسورس شیر افگن نے اپنی پریزنٹیشن میں کہا کہ اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے شعبے کو مستحکم اور اس کے قواعد و ضوابط کو بہتر بنانے کے لیے کئی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ ایکسچینج کمپنیوں کے لیے کم از کم ادا شدہ سرمایہ کی شرط 200 ملین روپے سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، 'بی' کیٹیگری کی ایکسچینج کمپنیوں کو یا تو موجودہ کمپنیوں کے ساتھ ضم ہونے، مکمل فلیجڈ کمپنیوں میں اپ گریڈ ہونے، یا دوسری 'بی' کیٹیگری کی کمپنیوں کے ساتھ مل کر مکمل فلیجڈ کمپنی بنانے کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ فارن ایکسچینج کی سمگلنگ اور غیر قانونی حوالہ/ہنڈی کے آپریشنز کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے۔ کمرشل بینکوں کو اب مکمل طور پر اپنی ملکیت میں ایکسچینج کمپنیاں چلانے کا پابند کیا گیا ہے جس کا مقصد مارکیٹ کنٹرول، گورننس، کمپلائنس، شفافیت اور سروس کے معیارات کو بہتر بنانا ہے۔ایم سی بی ایکسچینج کے سی ای او عامر نذیر خان نے کہا کہ صارفین کے لیے لین دین کے لیے ایکسچینج کمپنی کے بوتھ پر ذاتی طور پر جانا لازمی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فارن ایکسچینج کی خرید و فروخت پر کوئی چارجز نہیں لگائے جائیں گے اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ادائیگی اور وصولی کی جاسکتی ہے۔ ایم سی بی ایکسچینج کمپنی کے عہدیداروں نے اپنی پریزنٹیشن میں بتایا کہ ایک فرد روزانہ 10,000 امریکی ڈالر اورسالانہ 100,000 امریکی ڈالر یا دیگر کرنسیوں کے مساوی خرید سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسافر ایک دورے میں 5,000 امریکی ڈالر یا سالانہ 30,000 امریکی ڈالر یا دیگر کرنسیوں کے مساوی خرید سکتا ہے جبکہ نابالغ مسافر 2,500 امریکی ڈالر فی وزٹ یا سالانہ 15,000 امریکی ڈالر یا دیگر دستیاب کرنسیوں کے مساوی خرید سکتا ہے۔

سوال و جواب کے سیشن کے دوران، انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ کرنسی کے تبادلے کے لیے صارف کا بوتھ پر ذاتی طور پر جانا لازمی ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ کی خرید و فروخت پر کوئی چارجز نہیں ہیں۔