سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد کی تشہیر

ہائی کورٹ راولپنڈی بن نے 3 مقدمات میں سزا یافتہ 6 ملزمان کی اپیلیں واپس ٹرائل کورٹ کو بھجواتے ہوئے از سر نو سماعت کا حکم دے دیا

منگل 12 مئی 2026 19:57

سوشل میڈیا پرگستاخانہ مواد کی تشہیر
راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 مئی2026ء) ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس تنویر احمد شیخ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے 3 مقدمات میں سزا یافتہ 6 ملزمان کی اپیلیں واپس ٹرائل کورٹ کو بھجواتے ہوئے از سر نو سماعت کا حکم دیا ہے فاضل بنچ نے ہدایت کی ہے کہ مذکورہ افراد کے خلاف شواہد کو دوبارہ ریکارڈ کرے اور مقدمات کا فیصلہ دوبارہ کیا جائے واجد زرین عباسی، ابتسام المصطفیٰ، رانا عثمان، اشفاق عاقب، واجد علی اور سلمان سجاد پر مشتمل 6 ملزمان کو ٹرائل کورٹ نے سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں اور شعائرِ اسلام بالخصوص حضور نبی کریم ? کی شان میں توہین پر مبنی مواد کی تشہیر کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سمیت دیگر سزائیں سنائی تھیں مذکورہ ملزمان کے خلاف محمد سعید، شیراز احمد فاروقی اور عمر نواز کی مدعیت میں ایف آئی اے (FIA) سائبر کرائم ونگ راولپنڈی میں درج کئے تھے ملزمان کی اپیلوں کی سماعت کے دوران مدعیان کی جانب سے ممتاز قانون دان راجہ عمران خلیل ایڈووکیٹ پیش ہوئے سماعت کے موقع پر جماعت اہلسنت پاکستان کے قائم مقام مرکزی ناظم اعلیٰ پروفیسر حمزہ مصطفائی، جماعت اہلسنت پاکستان کے صوبائی پریس سیکریٹری راجہ محمد نوید نقشبندی، جماعت اہلسنت پاکستان کے کارکنان، انجمن آل و اصحاب کوٹلی ستیاں کے سربراہ پیر سید ساجد حسین شاہ اور انجمن کے دیگر عہدیداران، نیز سنی تحریک اور دیگر تنظیمات کے نمائندگان بھی موجود تھے دریں اثنا پروفیسر حمزہ مصطفائی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ان حساس مقدمات کا فیصلہ خالصتاً میرٹ پر اور قانون کی روح کے مطابق ہو تاکہ اسلام اور ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کیا جا سکے راجہ محمد نوید نقشبندی نے کہا کہ جماعت اہلسنت قانون کی بالادستی اور ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لئے اپنی جدوجہد اور قانونی پیروی جاری رکھے گی۔