قائد اعظم یونیورسٹی کے خلاف طلبا کی پٹیشن خارج

ہفتہ 19 جولائی 2025 21:30

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 19 جولائی2025ء) قائد اعظم یونیورسٹی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ فیصلہ نے قائد اعظم یونیورسٹی ایکٹ 1973 کے تحت ادارے کی خود مختاری کی تصدیق کرتے ہوئے یونیورسٹی کے انتظامی اقدامات کو چیلنج کرنے والی طلبا درخواست کو نا قابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دیا ہے۔

قائد اعظم یونیورسٹی کی جانب سے ہفتہ کو یہاں جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ طلبا کی جانب سے گرمیوں کی تعطیلات کے دوران یونیورسٹی کی جانب سے سالانہ مرمت اور دیکھ بھال کے لئے ہاسٹلز کی عارضی بندش اور سمر سیشن آفر نہ کرنے کے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس خادم حسین سومرو نے اس حوالہ سے جاری اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا ہے کہ زیر بحث کارروائی یونیورسٹی سنڈیکیٹ کی ایک قرار داد کے مطابق کی گئی تھی جو یونیورسٹی ایکٹ کے سیکشن ((i)(2(22) کے تحت ایک با اختیار مجاز اتھارٹی ہے۔

(جاری ہے)

عدالت نے قرار دیا کہ یہ معاملہ یونیورسٹی کے داخلی انتظامی اور تادیبی امور سے متعلق ہے اور درخواست گزاروں کے کسی بنیادی حق یا قانونی ضابطے کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی نظم و ضبط، تعلیمی معیار اور ادارہ جاتی خود مختاری کو برقرار رکھتے ہوئے طلبا کے لئے ایک محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔ قائمقام وائس چانسلر قائد اعظم یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے اس بات کا اعادہ کیا کہ گزشتہ دو میٹنگز کے دوران ڈینز، ڈائریکٹرز اور چیئرز کے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے گا جس میں ہاسٹلز کی کلیئرنس بھی شامل ہے۔