Live Updates

سندھ میں سیلاب کی پیشگوئی، 16 لاکھ افراد کو خطرہ، کچے کے علاقوں سے انخلا شروع

خیرپور میں رپڑی کے مقام پر سامان کی منتقلی کے دوران ایک کشتی الٹ گئی، حادثے کے نتیجے میں کشتی پر سوار افراد محفوظ رہے

اتوار 31 اگست 2025 15:55

سندھ میں سیلاب کی پیشگوئی، 16 لاکھ افراد کو خطرہ، کچے کے علاقوں سے انخلا ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 31 اگست2025ء)پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب کی پیشگوئی کے پیشِ نظر شمالی سندھ کے کچے کے علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے جبکہ دریائے سندھ میں اس وقت تک صورتحال معمول کے مطابق ہے۔سندھ کے محکمہ آبپاشی کے مطابق گڈو بیراج پر اپ سٹریم سے پانی کی آمد 322819 کیوسک جبکہ ڈان سٹریم میں اخراج 307956 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، اسی طرح سکھر بیراج پر اپ سٹریم سے پانی آمد 303480 کیوسک اور ڈان سٹریم میں اخراج 252110 کیوسک موجود ہے۔

دریائے سندھ پر قائم آخری بیراج کوٹری بیراج پر اپ سٹریم سے پانی کی آمد 273844 کیوسک جبکہ ڈان سٹریم میں اخراج 244739 کیوسک نوٹ کیا گیا ہے۔شمالی سندھ کے اضلاع گھوٹکی، خیرپور اور کشمور کے کچے کے علاقوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے، لوگ کشتیوں پر سامان لاد کر پکے کی طرف منتقل کر رہے ہیں، خیرپور میں رپڑی کے مقام پر سامان کی منتقلی کے دوران ایک کشتی الٹ گئی، حادثے کے نتیجے میں کشتی پر سوار افراد محفوظ رہے۔

(جاری ہے)

اس سے قبل صوبائی وزیر محمد بخش مہر نے دعوی کیا تھا کہ اگر پانی کی سطح سات لاکھ سے تجاوز کرتی ہے تو گھوٹکی اور اوباوڑو تحصیل میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔سندھ کے محکمہ آبپاشی کے مطابق اس وقت پنجاب میں پنجند کے مقام پر 8 لاکھ 82 ہزار کیوسک سے زائد پانی موجود ہے، صوبائی وزیر جام خان شورو کا کہنا ہے کہ اس حساب سے سیلابی صورتحال کا تعین ہو گا کہ پنجند سے کتنا پانی دریائے سندھ میں داخل ہوتا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ، سینیئر صوبائی وزیر شرجیل میمن، وزیرآبپاشی جام خان شورو اور کمانڈر کوسٹ ریئر ایڈمرل فیصل نے نیول ہیلی کاپٹر میں دریاں کی صورتحال کا جائزہ لیا، انھیں گڈو کے مقام پر بریفنگ دی گئی اور نقشوں کی مدد سے صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔شرجیل میمن کے مطابق سندھ میں سیلاب سے 16 لاکھ متاثر ہو سکتے ہیں۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے سپر فلڈ کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے انتظامی اداروں کو تمام تر تیاری مکمل کرنے کی ہدایت کی۔سندھ کے وزیر اعلی مراد علی شاہ نے کہاکہ اس وقت راوی اور تریموں پر پانی بڑھا ہوا ہے اور سپر فلڈ کی صورت میں سارا کچہ ڈوب جائے گا۔مراد علی شاہ نے کہاکہ صوبائی حکومت سپر فلڈ کی تیاری کر رہی ہے تاہم انھیں امید ہے کہ اتنا پانی نہیں آئے گا، تریموں سے گزرنے کے بعد بھی پانی کو سندھ پہنچنے میں پانچ دن لگیں گے۔خیال رہے کہ 9 لاکھ کیوسکس سے اوپر کے سیلاب کو سپر فلڈ کہا جاتا ہے۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات