وزیراعلیٰ سندھ کا شاہراہ بھٹو کے قیوم آباد کا بندرگاہ کوریڈور کی تعمیر کا اعلان

بندرگاہ ٹریفک کو براہ راست موٹروے تک رسائی مل جائے گی،کورنگی کازوے تا کاٹھوڑ پورا شاہراہ بھٹو دسمبر کے آخر تک کھول دیا جائے گا،سید مراد علی شاہ

بدھ 23 جولائی 2025 19:45

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 23 جولائی2025ء)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے شاہراہِ بھٹو کے قیوم آباد سے کراچی بندرگاہ تک نئے کوریڈور کی تعمیر کا اعلان کردیا،یہ منصوبہ بندرگاہ کی ٹریفک کو موٹروے تک موثر رسائی فراہم کرنے کے لیے ہے اور ملک کے لاجسٹکس اور ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔

یہ اجلاس وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب، وزیراعلی کے مشیر برائے سرمایہ کاری قاسم نوید، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی بورڈ نجم شاہ، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، پروجیکٹ ڈائریکٹر نیاز سومرو اور دیگر افسران شریک ہوئے۔

(جاری ہے)

وزیراعلی نے اس کوریڈور کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ہائی وے کو موٹروے سے جوڑنے والے لنک روڈ کے علاوہ قیوم آباد سے بندرگاہ تک شاہراہِ بھٹو کا نیا کوریڈوربندرگاہ کی ٹریفک کو موٹروے سے منسلک کرے گا۔وزیراعلی نے کہا کہ کورنگی کازوے سے کاٹھوڑ تک پورا شاہراہِ بھٹودسمبر 2025 کے آخر تک عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔ پورٹ قاسم، لانڈھی اور کورنگی جیسے صنعتی علاقوں کی ٹریفک کے لیے بنایا گیا نیشنل ہائی وے تا موٹروے لنک روڈ بھی جلد کھول دیا جائے گا۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے کراچی بندرگاہ سے قیوم آباد تک اہم حصے کی تعمیر کی فوری ضرورت پر زور دیا جو بندرگاہ کی ٹریفک کو موٹروے تک براہِ راست اور بغیر رکاوٹ رسائی فراہم کرے گا۔اطلاعات کے مطابق ایک نجی کمپنی نے اس منصوبے کے لیے ڈیزائن فنانس آپریٹ ٹرانسفر (ڈی ایف او ٹی) ماڈل کے تحت ایک تجویز جمع کرائی ہے جس میں جام صادق انٹرچینج سے کراچی بندرگاہ تک 16.5 کلومیٹر طویل سڑک اور بندرگاہ کی جانب 10.4 کلومیٹر طویل فلائی اوور بھی شامل ہے۔

مجوزہ تعمیر قیوم آباد کو بوٹ بیسن، پھر ضیا الدین چورنگی اور ایسٹ وھارف سے منسلک کرے گی۔کوریڈور منصوبے کے علاوہ، ٹریفک اسٹڈی بھی وزیراعلی کی ہدایات کی روشنی میں مکمل کی جا چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو ایک مرکزی شاہراہ کے طور پر کام کرے گی جو بھاری اور ہلکی دونوں اقسام کی ٹریفک کے لیے موزوں ہو گی۔ اس پر انٹرچینجز قریبی رہائشی علاقوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔

وزیراعلی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)یونٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ تمام متعلقہ وفاقی اور صوبائی اداروں سے جلد از جلد این او سی حاصل کرے اور ماحولیاتی مطالعہ فوری طور پر مکمل کرے۔کراچی کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے حکومتی عزم کو دہراتے ہوئے وزیراعلی نے بتایا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی کے انفراسٹرکچر پر کام تیز کر دیا گیا ہے جبکہ سہراب گوٹھ چورنگی کی از سر نو ڈیزائننگ کا عمل بھی جاری ہے تاکہ ٹریفک جام کے مسئلے کو کم کیا جا سکے۔