بشیر ورک کی زیرصدارت قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا اجلاس

بدھ 20 اگست 2025 20:07

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 20 اگست2025ء)قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی قانون و انصاف کا بشیر ورک کی زیرصدارت اجلاس کے دورانوسل بلوئر پروٹیکشن اینڈ وجیلنس حکومتی بل 2025 زیر بحث لانے اور آئے روزنئے اداروں کے قیام پرپاکستان پیپلزپارٹی اورتحریک انصاف نے تحفظات کااظہار کردیا،پی پی رہنمائ سیدنویدقمرنے حکومتی بل پر اعتراض اٹھا دیا اور کہاہے کہ حکومت تیز گام چلاتے ہوئے بل منظور کر لیتی ہے، پچھلے چند ماہ میں حکومت نے اتنے نئے ادارے بنا دیے ہیں، حکومت مزید سلطنتیں قائم نا کرے، وسل بلوئر کو تو تحفظ ہو گا مگر جس کے خلاف شکایت ہو گی اس کو حفاظت کون دے گا یہ تو بلیک میلنگ کا راستہ کھولنے والی بات ہے، سید نوید قمرنے یہ اعتراض بدھ کے روزکیاہے اس دوران بیرسٹرعقیل نے بتایاکہ بل سینیٹ سے منظور ہو چکا ہے، پہلے یہ ہوتا تھا کہ وسل بلوئر کو اپنے ہی ادارے کے سربراہ کے تحفظ میں رہنا ہوتا تھا، اب وسل بلوئر کے تحفظ کے لیے آزادانہ فورم بنا دیا گیا ہے تا کہ مفادات کا ٹکراو نا ہو، بل تو پہلے ہی پاس کو چکا ہے سینیٹ سے مگر بحث کی جا سکتی ہے، ہم نے پبلک ڈسکلوڑر ایکٹ کو ختم کر کے یہ ایکٹ بنایا ہے، تاہم ان کی ان باتوں پرپیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر نے حکومتی بل پر اعتراض اٹھا دیا اورکہاکہ حکومت تیز گام چلاتے ہوئے بل منظور کر لیتی ہے، پچھلے چند ماہ میں حکومت نے اتنے نئے ادارے بنا دیے ہیں، حکومت مزید سلطنتیں قائم نا کرے۔

(جاری ہے)

لطیف کھوسہ نے کہاکہ حکومت بتائے کہ پبلک ڈسکلوڑر ایکٹ 2017 سے کیا حاصل کیا کہ اب نیا قانون لا رہے ہیں وسل بلوئر کو کرپشن کا سرا دینے پر 20 فیصد حصہ ملے گا، نیب کی طرح وسل بلوئر بھی اپنا 20 فیصد کے گا یہ تو عوام کا پیسہ بنتا ہے، قرضوں پر چلنے والے ملک میں نت نئے ادارے بنا کر ہم بوجھ بڑھا رہے ہیں، وسل بلوئر کی معلومات پر کمیشن بنے گا اس کے اراکین کے تعین کا کوئی معیار نہیں ہے۔