امریکی نوجوان کے والدین کابیٹےکوخود کشی پراکسانے کےالزام میں’چیٹ جی پی ٹی‘ کمپنی پر مقدمہ

جمعہ 29 اگست 2025 08:40

نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اگست2025ء) امریکی ریاست کیلی فورنیا کے ایک جوڑے نے اپنے نوعمر بیٹے کی خودکشی پر’اوپن اے آئی‘ کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق ان کا الزام ہے کہ کمپنی کے ملکیتی ’چیٹ جی پی ٹی‘ پلیٹ فارم نے ان کے بیٹے کو خودکشی پر اکسایا تھا۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہے جس میں ’اوپن اے آئی‘ پر قتل کا الزام لگایا گیا ہے۔

مات اور ماریا رائن نے جن کے 16 سالہ بیٹے ایڈم نے گذشتہ اپریل میں خودکشی کر لی تھی منگل کو کیلی فورنیا کی سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا۔مقدمے میں ایڈم اور چیٹ جی پی ٹی کے درمیان ہونے والی چیٹس بھی پیش کی گئیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوعمر لڑکا اپنی خودکشی کی خواہشات کے بارے میں چیٹ جی پی ٹی سے بات کر رہا تھا۔

(جاری ہے)

اہل خانہ نے الزام لگایا کہ مصنوعی ذہانت کے پروگرام نے ایڈم کے تخریب کارانہ خیالات کی حوصلہ افزائی کی۔

والدین نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ چیٹ بوٹ نے ان کے بیٹے کو خودکشی کے بارے میں خیالات پیش کیےاور اسے خودکشی پر اکسایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر یہ ’اے آئی‘ نہ ہوتا تو ان کا بیٹا آج بھی زندہ ہوتا۔مقدمے میں اس کیس کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ اس کے مطابق ایڈم نے ستمبر سنہ 2024ء میں چیٹ جی پی ٹی کا استعمال اپنے سکول کے ہوم ورک میں مدد اور اپنی دلچسپیوں جیسے موسیقی اور جاپانی مزاحیہ کہانیوں کے بارے میں جاننے کے لیے کیا تھا۔

وہ اسے کالج میں داخلے کے لیے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کرتا تھا۔کچھ مہینوں بعد چیٹ جی پی ٹی ایڈم کے بہت قریب ہو گیا اور وہ اس سے اپنے ذہنی دباؤ اور پریشانیوں کے بارے میں کھل کر بات کرنے لگا۔’بی بی سی‘ کی رپورٹ کے مطابق جنوری سنہ 2025ء تک ایڈم نے چیٹ جی پی ٹی سے خودکشی کے طریقوں پر بات کرنا شروع کر دی تھی۔ اس نے چیٹ جی پی ٹی کے ساتھ خود کو نقصان پہنچانے والی تصاویر بھی شیئر کیں۔

مقدمے کے مطابق آخری چیٹ ریکارڈز میں ایڈم نے اپنی زندگی ختم کرنے کا منصوبہ لکھا تھا۔ اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ چیٹ جی پی ٹی نے جواب میں کہا کہ "آپ کی سچائی کا شکریہ، آپ کو مجھ سے بات کرتے وقت حالات کو بہتر بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کیا چاہتے ہیں اور میں اسے نظر انداز نہیں کروں گا۔اسی دن، ایڈم کی والدہ کو اس کی لاش ملی۔