امیگریشن قوانین سخت، امریکامیں غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے قیام کی مدت محدود

صحافیوں کی امریکا میں رہنے کی مدت کو 240دن متعین کر دیا ہے

جمعہ 29 اگست 2025 15:50

امیگریشن قوانین سخت، امریکامیں غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے قیام کی ..
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اگست2025ء)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امیگریشن قوانین مزید سخت کرتے ہوئے صحافیوں اور غیرملکی طلبہ کیلئے ملک میں قیام کی مدت سے متعلق نئی تبدیلیاں متعارف کروادی ہیں۔غیرملکی میڈیاکے مطابق نئی تجاویز کے تحت غیر ملکی طلبہ سٹوڈنٹ ویزے پر چار سال سے زیادہ عرصے کیلئے امریکا میں نہیں رہ سکیں گے، صحافیوں کی امریکا میں رہنے کی مدت کو 240دن متعین کر دیا ہے اگرچہ وہ مزید 240 روز کی توسیع کے لیے درخواست دائر کر سکتے ہیں۔

امریکا عام طور پر طلبہ کو تعلیمی پروگرام کی مدت اور صحافیوں کو ان کے کام کے دورانیے کے مطابق ہی ویزہ جاری کرتا ہے جبکہ کوئی بھی ویزہ 10سال سے زیادہ عرصے کے لیے فعال نہیں ہوتا،مجوزہ تجاویز فیڈرل رجسٹرار میں شائع کر دی گئی ہیں جن کا اطلاق چند روز بعد ہوگا۔

(جاری ہے)

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہاکہ طلبہ غیر معینہ مدت کیلئے اپنی پڑھائی میں توسیع کر رہے ہیں تاکہ طالب علم کی حیثیت سے امریکا میں رہ سکیں۔

انہوں نے کہاکہ طویل عرصے سے ماضی کی حکومتیں طلبہ اور ویزے پر آئے دیگر افراد کو غیرمعینہ مدت کیلئے رہنے کی اجازت دیتی رہیں جس سے حفاظتی خطرات لاحق ہوئے، ٹیکس دہندگان کے ڈالروں کی بے حساب رقم خرچ ہوئی اور امریکی شہریوں کو نقصان پہنچا ۔محکمے نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کس طرح سے امریکی شہریوں اور ٹیکس دہندگان کو بین الاقوامی طلبہ سے نقصان پہنچا ہے جنہوں نے کامرس ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں امریکی معیشت میں 50 ارب ڈالر سے زیادہ کا حصہ ڈالا۔

2023-24کے تعلیمی سال میں 11لاکھ سے زیادہ بین الاقوامی طلبہ امریکاآئے جو کسی بھی دیگر ملک کے مقابلے میں سب سے بڑی تعداد اور امریکا کے لیے آمدنی کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔امریکی کالجز اور یونیورسٹیوں کے نمائندہ گروپ نے مذمت کرتے ہوئے حکومتی اقدام کو ایک غیرضروری بیوروکریٹک رکاوٹ قرار دیا ہے۔ہائر ایجوکیشن اور امیگریشن الائنس کی صدر مریم فلیڈبلوم نے کہا کہ یہ مجوزہ قانون دنیا بھر کے باصلاحیت افراد کو پیغام دیتا ہے کہ ان کے کام کی امریکا میں قدر نہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف غیرملکی طلبہ کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ امریکی کالجز اور یونیورسٹیوں کی شاندار ٹیلنٹ کو منتخب کرنے کی صلاحیت کو بھی متاثر اور عالمی سطح پر امریکاکی برتری بھی ثابت کرتا ہے۔