حکومت آئندہ پانچ سال کے لیے ایک جامع ٹیکسٹائل و ملبوسات پالیسی اور قومی صنعتی پالیسی تشکیل دے رہی ہے، جام کمال

جمعہ 29 اگست 2025 19:01

حکومت آئندہ پانچ سال کے لیے ایک جامع ٹیکسٹائل و ملبوسات پالیسی اور ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 اگست2025ء) وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت آئندہ پانچ سال کے لیے ایک جامع ٹیکسٹائل و ملبوسات پالیسی اور قومی صنعتی پالیسی تشکیل دے رہی ہے، جس کا مقصد پاکستان کی صنعت کو علاقائی طور پر مسابقتی بنانا، تجارتی رکاوٹوں کو ختم کرنا اور برآمدات میں پائیدار اضافہ یقینی بنانا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر کیا۔

اس موقع پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان سمیت کوہ نور ٹیکسٹائل ملز کے چیف ایگزیکٹیوعامر فیاض شیخ سمیت آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن پٹما کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شاہد ستار سمیت دیگر رہنمائوں نے شرکت کی وزیر تجارت نے کہا کہ ٹیکسٹائل و ملبوسات پالیسی اس انداز میں تشکیل دی جا رہی ہے کہ پیداواری لاگت میں کمی ہو، وسائل کے بہتر استعمال اور عمل کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، تحقیق و ترقی کو فروغ دیا جائے، مصنوعات و منڈیوں میں تنوع لایا جائے اور پاکستان کا عالمی منڈی میں حصہ بڑھایا جائے۔

(جاری ہے)

جام کمال خان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو پائیدار ترقی کے لیے برآمدات پر انحصار کرنا ہوگا اور حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ تمام فیصلے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ساتھ کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلی بار حکومت اور صنعت برآمدات میں اضافے کے عزم پر ایک صفحے پر ہیں۔انہوں نے علاقائی حریف ممالک کی پالیسیوں کا تجزیہ کرنے کی صنعت کی تجویز کا خیر مقدم کیا اور ڈھاکہ کے اپنے حالیہ دورے کے مشاہدات بھی شریک کیے جہاں انہوں نے بنگلہ دیش کی صنعتی ترقی اور ریڈی میڈ گارمنٹس کی برآمدات میں شاندار کامیابیوں کو قریب سے دیکھا۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان نے کہا کہ نئی صنعتی پالیسی چند مخصوص شعبوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ یہ وسیع صنعتی منظرنامے کا احاطہ کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پالیسی میں توانائی، ٹیرف و ٹیکسیشن، مالی معاونت، اکنامک زونز سمیت دیگر شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گرین فیلڈ منصوبوں کی سہولت، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت زمین لیز ماڈل اور سرمایہ کاروں کے لیے ون ونڈو سہولت بھی اس پالیسی کا حصہ ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وڑن کے تحت یہ اقدام ملک بھر میں صنعتی ترقی میں نئی جان ڈالے گا۔اپٹما کے وفد نے حکومت پر زور دیا کہ ساختی رکاوٹیں ختم کی جائیں اور ایسا سازگار ماحول فراہم کیا جائے جو عالمی منڈی میں برآمدی شعبوں کی مسابقت کو متاثر نہ کرے۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پائیدار پالیسی سپورٹ اور اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشوں کے ذریعے برآمدات میں نمایاں اضافے کے حوالے سے اپنے پرامید عزم کا اظہار کیا۔