غزہ میں قحط میں اضافہ، اسرائیلی محاصرے کے دوران بھوک اور حملوں سے مزید فلسطینی جاں بحق، اقوامِ متحدہ

ہفتہ 30 اگست 2025 00:20

نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 اگست2025ء) اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسیوں نے غزہ شہر میں اسرائیلی فوجی حملوں میں شدت کے تناظر میں ایک بار پھر قحط کے پھیلاؤ اور روکے جا سکنے والی بیماریوں کے بڑھتے خطرے پر ہنگامی وارننگ جاری کی ہے،جو جنگ سے تباہ حال علاقے میں انتہائی خراب حالاتِ زندگی سے جڑے ہیں۔ جمعہ کو یو این او سی ایچ اے کے ترجمان جینز لائرکے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ہم بڑے پیمانے پر قحط کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں،اور اس کے لیے غزہ کی پٹی میں بڑی مقدار میں خوراک پہنچانا اور اسے محفوظ طریقے سے تقسیم کرنا ضروری ہے۔

یو این کی حمایت یافتہ فوڈ سکیورٹی ماہرین کے آئی پی سی گروپ کی تازہ ترین تشویشناک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لائرکے نے بتایا کہ اس وقت 5 لاکھ افراد سب سے بدترین صورت حال سے دوچار ہیں جبکہ آنے والے ہفتوں میں مزید ایک لاکھ 60 ہزار افراد اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان سب کو خوراک کی فوری ضرورت ہے۔ پوری غزہ کی پٹی کو خوراک کی ضرورت ہے۔

اگر خوراک کی کافی مقدار دستیاب ہوتی تو قحط کا اعلان ہی نہ کیا جاتا۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں قحط اور غذائی قلت کے باعث مزید 5 اموات ہوئیں، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں، جس کے بعد بھوک سے ہونے والی اموات کی مجموعی تعداد 322 ہو گئی ہے، جن میں 121 بچے شامل ہیں۔جمعہ کی صبح سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کم از کم 67 فلسطینی جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں بچے اور امداد کے متلاشی افراد بھی شامل ہیں۔

یہ حملے غزہ کے مختلف علاقوں میں کیے گئے، جن میں جنوبی حصے کا "الماواسی علاقہ" بھی شامل ہے، جسے اسرائیل نے "انسانی ہمدردی کا زون" قرار دیا تھا۔7 اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 63 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ادھر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے غزہ میں وبائی امراض کے بڑھتے ہوئے خطرے کی نشاندہی کی ہے اور بتایا ہے کہ گیلین بیری سنڈروم کے 94 مشتبہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں، یہ بیماری فالج کا سبب بن سکتی ہے۔

علاج کے طور پر اسپتالوں میں "انٹراوینس امیونوگلوبیولن" یا "پلازما ایکسچینج" دستیاب ہوتا ہے لیکن ڈبلیو ایچ او کے مطابق یہ دونوں اشیاء، ساتھ ہی اینٹی انفلامیٹری ادویات، غزہ میں مکمل طور پر ختم ہو چکی ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے ترجمان کرسچین لنڈمائر نے اسرائیلی امدادی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادویات فوری طور پر پہنچائی جانی چاہئیں، ساتھ ہی ٹیسٹنگ اور نگرانی کی سہولتیں بھی بڑھانا ہوں گی۔20او سی ایچ اے نے اپنی اپ ڈیٹ میں بتایا کہ اسے 26 اگست کے دوران، غزہ میں اسرائیلی حکام کے ساتھ 89 ریلیف مشنز میں سے صرف 53 کو اجازت ملی، 23 کو پہلے اجازت دی گئی مگر بعد میں روکا گیا، 7 کو براہِ راست مسترد کر دیا گیا اور 6 کو منتظمین کو خود واپس لینا پڑا۔