Live Updates

سیلاب کا خطرہ؛ ملتان سے 3 لاکھ افراد کی نقل مکانی، بلوچستان میں بھی ریلہ داخل ہونے کا خدشہ

سیلاب سے بچاؤ کیلئے دریائی اور نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری، متاثرین کی انتظامیہ کے خلاف کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی منتقلی کے انتظامات نہ کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 30 اگست 2025 11:17

سیلاب کا خطرہ؛ ملتان سے 3 لاکھ افراد کی نقل مکانی، بلوچستان میں بھی ..
ملتان ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 30 اگست 2025ء ) سیلاب کے خطرے پیش نظر ملتان سے 3 لاکھ افراد کی نقل مکانی جاری ہے جب کہ بلوچستان میں بھی ریلہ داخل ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سیلابی صورتحال سے بچنے کے لیے دریائی اور نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کی جارہی ہے، ملتان کی حدود میں شام تک سیلاب کا بڑا ریلہ داخل ہونے کے خدشے پر 3 لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر رہے ہیں، متاثرین کی جانب سے انتظامیہ کے خلاف کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی منتقلی کے انتظامات نہ کرنے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ جلال پور پیر والا کے قریب دریائے ستلج سے 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے جس سے 140 دیہات متاثر ہوئے، راجن پور میں اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر نشیبی علاقوں سے لوگوں کی منتقلی جاری ہے، بہاولپور میں دریائے ستلج کے کناروں پر نشیبی علاقوں کے مکین نقل مکانی کر رہے ہیں جب کہ فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ کردیا گیا۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ دریائے چناب کے سیلابی ریلے کے بعد وزیر آباد اور حافظ آباد کے علاقے متاثر ہوئے، حافظ آباد کے 40 دیہات اب بھی ڈوب گئے، دریائے ستلج میں گنڈاسنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، تلوار پوسٹ سے ملحقہ دیہات خالی کرانے کے لیے اعلانات کیے جا رہے ہیں جب کہ دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے، ہیڈ گنڈاسنگھ والا پر غیر معمولی اونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کا اخراج 3 لاکھ 3 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

بتایا جارہا ہے کہ دریائے ستلج میں ہیڈ اسلام کے مقام پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ دیکھا جارہا ہے، ہیڈ سلیمانکی پر پانی کی آمد و اخراج ایک لاکھ 38 ہزار 58 کیوسک تک پہنچ گیا، ہیڈ اسلام پر پانی کی آمد 63 ہزار 263 اور اخراج 62 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، وہاڑی کی ضلعی انتظامیہ نے 133 بستیوں میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے نشیبی علاقوں کے رہنے والے افراد کو فوری طور پر محفوظ مقامات پرمنتقل ہونے کی ہدایت کردی جہاں ضلع بھر میں سیلاب سے مجموعی طور پر 49 ہزار 573 افراد متاثر ہوئے ہیں، سیلاب میں 30 ہزار 380 ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات