طبی ماہرین کا الرجی کے موسم میں ماسک پہننے،بیرونی سرگرمیاں مختصر کرنے کا مشورہ

ہفتہ 10 جنوری 2026 13:23

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 جنوری2026ء) طبی ماہرین نے موسمی الرجیز کے حوالہ سے جڑواں شہروں کے رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ پولن اور کھانسی کی الرجیز سے بچائو کے لیے اضافی احتیاطی اقدامات کے تحت ماسک پہنیں ، قہوہ یا سبز چائے کا استعمال اور بیرونی سرگرمیاں محدود کریں۔جے پی ایم سی کے اسسٹنٹ پروفیسر اور جنرل فزیشن ڈاکٹر عرفان صدیقی نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ جنوری سے مارچ اسلام آباد میں پولن الرجی کے عروج کا موسم ہوتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ انتظامیہ الرجی پیدا کرنے والے درختوں کو ہٹا رہی ہے تاہم رہائشیوں کو ان درختوں والے علاقوں سے گریز کرنا چاہیے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موسمی تبدیلیاں، دھند اور گاڑیوں کی آلودگی الرجک رد عمل کو خراب کر سکتی ہے جس سے طرز زندگی میں تبدیلیاں ضروری ہیں۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر عرفان صدیقی نے بیماریوں سے بچائو کے لیے عملی اقدامات کی سفارش کرتے ہوئے کہا کہ ماسک پہنیں، بیرونی سرگرمیوں کو محدود کریں، پولن کی سطح زیادہ ہونے پر بیرونی سرگرمیاں محدود کریں اور صحت مند معمولات کو برقرار رکھیں۔

انہوں نے رہائشیوں کو مشورہ دیا کہ وہ الرجی کی علامات کو پہچانیں اور ان کی نگرانی کریں جیسے کہ چھینکیں، ناک بند ہونا، آنکھوں میں خارش اور ہلکی کھانسی وغیرہ تاکہ فوری طور پر طبی امداد حاصل کی جا سکے۔کراچی میں کھانسی اور "سپر فلو" کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے، ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ اگرچہ موسمی الرجی سانس کی بیماری علامات کو بڑھا سکتی ہے لیکن احتیاط بہت ضروری ہے۔

انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ الرجی کی علامات اور انفیکشن کے درمیان فرق کریں، حفظان صحت کو برقرار رکھیں اور علامات برقرار رہنے یا خراب ہونے کی صورت میں معالج سے مشورہ کریں۔انہوں نے زور دیا کہ بروقت احتیاط اور آگاہی موسمی الرجیز اور سانس کی بیماریوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پولن الرجی عام طور پر جن علامات کا باعث بنتی ہے ان میں چھینکیں، ناک بند ہونا، ناک بہنا، آنکھوں میں خارش یا پانی آنا، گلے میں خارش اور ہلکی کھانسی وغیرہ شامل ہیں بعض صورتوں میں سر درد، تھکاوٹ اور سانس لینے میں دشواری کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

سیزن کے دوران پولن الرجی کا بہتر انتظام کرنے کے لیے انہوں نے مزید کہا جب یہ سیزن قریب آئے تو آپ احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں جیسے کہ الرجی کے شاٹس لینا یا ایسی دوائیں لینا جو آپ کی قوت مدافعت کو مضبوط کرتی ہیں اور بیماری کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے میں مدد کرتی ہیں۔