تمباکو سے پاک زبانی مصنوعات کیلئے لازمی معیارات کو تیزی سے نافذ کرنے کے اقدام کو مسترد کرتے ہیں، نمائندگان سول سوسائٹی بلوچستان
جمعرات 15 جنوری 2026 20:15
(جاری ہے)
اجتماعی موقف اختیار کرتے ہوئے سول سوسائٹی کے نمائندگان نے کہا کہ مجوزہ معیارات ایک ایسے صوبے میں نکوٹین کے استعمال کو معمول بنا سکتے ہیں جو پہلے ہی شدید سماجی و معاشی مسائل، کمزور ریگولیٹری نفاذ اور بچوں و نوجوانوں کی زیادہ کمزوری کا شکار ہے۔
ان کے مطابق ایسی مصنوعات کو باقاعدہ یا قانونی حیثیت دینا، خواہ تکنیکی ضوابط کے نام پر ہی کیوں نہ ہو، تمباکو سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے بجائے نکوٹین کی لت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔بچوں کے حقوق کے نقط نظر سے کسی بھی ایسی پالیسی کو قبول نہیں کیا جا سکتا جو ضابطہ کاری کے نام پر نشہ آور مادوں کو جائز قرار دے،میر بہرام لہڑی، کوآرڈینیٹر، چائلڈ رائٹس موومنٹ بلوچستان نے کہا۔بچوں اور نوعمروں کو نکوٹین کی ہر شکل سے محفوظ رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، اور یہ اقدام اس ذمہ داری کو کمزور کرتا ہے۔انسانی ہمدردی اور سول سوسائٹی کے رہنماں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پالیسی بحث میں برآمدی اعداد و شمار اور صنعت کے بیانیے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے، جبکہ صحت اور سماجی اثرات کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔عوامی پالیسی کی بنیاد انسانی فلاح اور عوامی صحت ہونی چاہیے، نہ کہ منڈی کی توسیع،عادل جہانگیر، رکن نیشنل ہیومینٹیرین نیٹ ورک اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر، ایڈ بلوچستان نے کہا۔نکوٹین پاچز کے معیارات کو لازمی بنانا ان کمیونٹیز میں مزید لت کا دروازہ کھول سکتا ہے جہاں صحت کے مثر حفاظتی نظام پہلے ہی ناکافی ہیں۔میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی مبصرین نے نکوٹین کے استعمال کو معمول بنانے کے وسیع سماجی اثرات پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا۔اسے ضابطہ کاری کہنا اس حقیقت کو نہیں بدلتا کہ نکوٹین ایک نشہ آور اور نقصان دہ مادہ ہے،میر بہرام بلوچ، سینئر صحافی اور ای وی اے ڈبلیو اینڈ جی الائنس بلوچستان کے رکن نے کہا۔سماجی سطح پر یہ اقدام خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ایک خطرناک پیغام دیتا ہے۔نوجوانوں کے احتسابی پلیٹ فارمز نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے فیصلوں کے طویل المدتی نتائج براہِ راست بلوچستان کے نوجوانوں کو بھگتنا پڑیں گے۔نوجوانوں کی آواز کو ایک بار پھر نظرانداز کیا جا رہا ہے،رخسانہ عبدالحق، فوکل پرسن، یوتھ پبلک اکانٹیبلٹی فورم بلوچستان نے کہا۔روک تھام، آگاہی اور صحت مند متبادل میں سرمایہ کاری کے بجائے یہ پالیسی نوجوانوں کو ایک نئی قسم کی لت کی طرف دھکیل سکتی ہے۔بلوچستان کی سول سوسائٹی تنظیموں نے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ نکوٹین پاچز کے لیے لازمی معیارات کے نفاذ سے متعلق تمام اقدامات فوری طور پر روکے اور واپس لیے جائیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی صحت سے متعلق فیصلے صنعت کے اثر و رسوخ سے پاک ہوں اور بچوں کے حقوق، نوجوانوں کے تحفظ اور شواہد پر مبنی صحت پالیسی کو ترجیح دی جائیمتعلقہ عنوان :
مزید اہم خبریں
-
آزاد کشمیرالیکشن میں مبینہ دھاندلی پر پیپلزپارٹی کی عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری
-
پاکستان آنے والے ناروے کے وزیر خارجہ نے اپنا سامان خود اٹھایا، سادگی نے توجہ حاصل کرلی
-
رجب بٹ اپنی دوسری شادی سسٹرولوجی کے خاندان میں کریں گے، ماہر نجوم کی پیشگوئی
-
سہیل آفریدی اڈیالہ پہنچے تو پولیس نے راستہ روک لیا، ملاقات نہ ہونے پر کارکنوں کیلئے اہم اعلان
-
بلوچستان کے طلبہ ملکی جامعات میں تعلیم حاصل کرکے ملک و صوبے کی ترقی میں کردار ادا کریں، وزیراعلیٰ
-
نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت گندم سے متعلق امور کی سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس
-
فیلڈ مارشل سید عاصم منیرسے ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایرڈے کی ملاقات
-
مبینہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کی درخواست منظور، عدالت نے ایک مقدمے میں بری کردیا
-
وزیراعلیٰ مریم نواز کا سپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق اچکزئی کے بیٹے کے انتقال پر اظہارافسوس
-
پنجاب ’’اینڈ ٹو اینڈ‘‘پیپرلیس اینڈ آٹو میشن ٹیکنالوجی دورمیں داخل
-
6،6 لاکھ پر سینیٹ کے آزاد امیدواروں کو ووٹ ملا ہے، فواد چوہدری کا دعویٰ
-
یوم آزادی ہمیں اپنی تاریخ سے وابستگی، قومی ذمہ داریوں کے احساس اور مستقبل کے لیے اجتماعی عزم کی تجدید کا درس دیتا ہے، سپیکر قومی اسمبلی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.