ہوسکتا ہے ہم نے اسلام آباد دو تین روٹس سے جائیں یا ہوسکتا ہے ایک ہی روٹ سے جائیں، آفتاب عالم

ہم گورنرراج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے بلیک میل نہیں ہوں گے، پرامن احتجاج ہمارا آئینی قانونی حق ہے، عمران خان، ان کی فیملی کے حوالے ہمارے مطالبات جائز ہیں، خیبرپختونخواہ کے وزیرقانون

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 30 ستمبر 2026 23:16

ہوسکتا ہے ہم نے اسلام آباد دو تین روٹس سے جائیں یا ہوسکتا ہے ایک ہی روٹ ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 30 ستمبر 2026ء ) خیبرپختونخواہ کے وزیرقانون آفتاب عالم کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے ہم نے اسلام آباد دو تین روٹس سے جائیں یا ہوسکتا ہے ایک ہی روٹ سے جائیں، ہم گورنرراج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے بلیک میل نہیں ہوں گے، پرامن احتجاج ہمارا آئینی قانونی حق ہے، عمران خان، ان کی فیملی کے حوالے ہمارے مطالبات جائز ہیں۔

انہوں نے سماء نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دیکھیں ان کے بیانات میں تضادات ہیں، رانا ثناء اللہ ایک بیان دیتے ہیں، طارق فضل چوہدری دوسرا بیان دیتے ہیں ،یہ سب دہشتگردی کا بہانہ کررہے ہیں، جو بھی ہو اگر یہ اپنی خواہش پوری کرنا چاہتے ہیں ، یہ بھلے اپنی خواہش پوری کریں، صوبائی حکومت یا اقتدار ہماری کمزوری نہیں ہے، جس طرح اقتدار ہمارے لیڈر کی کمزوری نہیں ہے،وفاقی حکومت پچھلے دو سالوں سے گورنرراج اور ایمرجنسی کے نام پر بلیک میل کررہی ہے۔

(جاری ہے)

آپ کو یاد ہوگا کہ سہیل آفریدی کے آنے کے ساتھ ہی ہمیں دھمکیاں لگائی گئیں، ان باتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ مجھے جو لگ رہا ہے ، اس کے بعد اثرات خطرناک ہوں گے۔ بلوچستان ان کے ہاتھ سے 80 فیصد سے زیادہ نکل چکا ہے اس کی بنیادی وجہ ایمرجنسی ہی تھی۔ ہم گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے بلیک میل نہیں ہوں گے، پرامن احتجاج ہمارا آئینی قانونی حق ہے، عمران خان، ان کی فیملی کے حوالے ہمارے مطالبات جائز ہیں۔

اسی طرح مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی اشارہ نہیں ہے کہ لانگ مارچ کو مؤخر کر کے حکومت سے مذاکرات کی جانب بڑھا جائے، بیرسٹر گوہر اور وزیراعلی کہہ چکے ہیں کہ احتجاج ہر صورت ہو گا، حکومت رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے برداشت کرے، اپوزیشن کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اسٹریٹ موومنٹ کے سربراہ سہیل آفریدی ہیں اور وہ اس پر واضح ہیں۔ اس وقت تک مجھے بات چیت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ مجھے نہیں پتا کہ پرسوں کیا ہو گا مگر آج کے دن تک مجھے ایمرجنسی ایک پراپگنڈا اور دھمکی لگ رہی ہے۔۔ پہلے بھی پارٹی پر پابندی سمیت کئی باتیں کی گئی تھیں۔ مجھے گورنر راج یا ایمرجنسی لگتی نظر نہیں آ رہی۔

مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ شوکت یوسفزئی کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے دیں اور تحفظات کا اظہار کریں، جن لوگوں نے ان پر تنقید کی یہ نامناسب بات ہے۔ پی ٹی آئی بڑی سیاسی جماعت ہے ہر شخص کو رائے کا اظہار کرنے کا استحقاق ہے۔ شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ صوبائی اسمبلی توڑنے والی بات پر پی ٹی آئی پارٹی گروپ میں بات ہوئی، بیرسٹر گوہر نے وزیراعلی سے بھی بات کی اور واضح کیا گیا کہ ایسی کوئی بات زیر غور نہیں ہے۔

اسی طرح تحریک عدم اعتماد کی جہاں تک بات ہے وہ لائے گا کون؟ کیوںکہ ابھی تک پارٹی متحد ہے۔ کوئی ڈی فکیشن نہیں۔ جو عدم اعتماد کی بات ہے، تو کون عدم اعتماد لائے گا؟ اور کس پر لائے گا؟ پی ٹی آئی اس وقت متحد ہے، مجھے کہیں کوئی ڈی فیکشن نظر نہیں آئی۔ کوئی ایم پی اے مجھے جاتے ہوئے نظر نہیں آیا تو پھر کون عدم اعتماد لائے گا؟ جنید اکبر نے یہ جوکہا ہے کہ سہیل آفریدی نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں، انہوں نے ایک متحد ہونے کا میسج دینے کی کوشش کی ہے کہ آپ اگر ہمارے ایک بندے کو ہٹاؤ گے تو ہم سب ایک ہیں۔ کیونکہ جب وفاقی وزراء صوبے میں گورنرراج یا ایمرجنسی کی دھمکی دیں گے تو پھر بطور صوبائی صدر جنید اکبر بھی اسی قسم کا میسج دیں گے ۔