سرد جنگ کے بعد جوہری خطرے کا سب سے زیادہ سامنا، یو این کا انتباہ

یو این بدھ 30 ستمبر 2026 23:00

سرد جنگ کے بعد جوہری خطرے کا سب سے زیادہ سامنا، یو این کا انتباہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 30 ستمبر 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کو سرد جنگ کے بعد جوہری خطرے کے حوالے سے خطرناک ترین دور کا سامنا ہے۔ جدید جوہری ہتھیاروں کے ذخائر میں توسیع، جوہری صلاحیتوں کا نمایاں ہوتا اظہار اور نئی ٹیکنالوجی کے باعث غلطیوں کا خطرہ عالمی امن بارے سخت تشویش کا باعث ہے۔

سیکرٹری جنرل نے یہ بات جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کے لیے 29 ستمبر کو منائے جانے والے عالمی دن پر جنرل اسمبلی کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ اس اجلاس کا مقصد جوہری ہتھیاروں سے لاحق خطرات کے بارے میں آگاہی بیدار کرنا اور جوہری اسلحہ سے پاک دنیا کے قیام کے لیے کوششوں کو فعال کرنا تھا۔

Tweet URL

انہوں نے امریکہ اور روس کے مابین نیو سٹارٹ معاہدے کی مدت ختم ہونے اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی 11ویں جائزہ کانفرنس میں کسی ٹھوس نتیجے پر عدم اتفاق کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا۔

(جاری ہے)

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ، اب ان حفاظتی انتظامات کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، لیکن، کئی دہائیوں کی محنت سے خطرات کو محدود کرنے کے لیے قائم کردہ حفاظتی بندوبست کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کا کمیشن برائے تخفیف اسلحہ بھی اپنا تین سالہ دور مکمل کر کے کسی ٹھوس سفارش پر اتفاق نہیں کر سکا۔

انہوں نے کہا کہ یہ محض سفارتی ناکامیاں نہیں بلکہ خطرے کی گھنٹیاں ہیں۔

بڑھتے ہوئے جوہری خطرات اور حفاظتی نظام کا انہدام تباہی کے ایسے راستے پر لے جا رہا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو گی۔

نیو سٹارٹ معاہدہ کا متبادل

انتونیو گوتیرش نے کہا کہ تخفیف اسلحہ کوئی احسان نہیں بلکہ قانونی طور پر لازم ذمہ داری ہے۔ جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں، اپنی سلامتی کی پالیسیوں میں جوہری اسلحہ کے کردار کو محدود کریں اور اعتماد سازی کے لیے ایسے اقدامات اٹھائیں جن سے شفافیت آئے۔

سیکرٹری جنرل نے امریکہ اور روس پر زور دیا کہ وہ نیو سٹارٹ معاہدے کے متبادل کسی نئے طریقہ کار کے لیے مذاکرات شروع کریں۔ وقت آ گیا ہے کہ جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر جامع پابندی کے معاہدے (سی ٹی بی ٹی) کو نافذ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ انسانیت آٹھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے جوہری ہتھیاروں کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے۔ رکن ممالک ایسے مستقبل کا انتخاب کریں جو ان ہتھیاروں سے پاک ہو۔

12 ہزار جوہری بم

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ رواں سال جنوری تک دنیا میں جوہری بموں کی مجموعی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔ اگرچہ یہ تعداد 1986 میں ریکارڈ کی گئی بلند ترین سطح (تقریباً 70 ہزار) کے مقابلے میں بہت کم ہے تاہم حالیہ رجحانات تشویش ناک ہیں۔

ان میں سے تقریباً 2,100 تا 2,200 ہتھیار بیلسٹک میزائلوں پر نصب ہیں جنہیں انتہائی مختصر وقت میں داغا جا سکتا ہے۔

سرد جنگ کے بعد پہلی مرتبہ عالمی جوہری ذخیرے میں دوبارہ اضافے کا خدشہ پیدا ہوا ہے کیونکہ نئے اور جدید ترین جوہری بموں کو موجودہ ذخیرے میں شامل کرنے کی رفتار پرانے بموں کو ختم کرنے کی رفتار سے بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، سائبر صلاحیتوں اور جدید ترسیلی نظام سمیت نئی ٹیکنالوجی جوہری ہتھیاروں کے کمانڈ، کنٹرول اور فیصلہ سازی کے نظام میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہی ہے۔

نیو سٹارٹ معاہدہ کسی متبادل معاہدے کے بغیر ختم ہونے کے بعد تزویراتی جوہری ہتھیاروں کے ذخائر پر کوئی پابند حد مقرر نہیں رہی۔

بڑھتے ہوئے تنازعات، اسلحہ پر کنٹرول کے انتظامات کمزور پڑنے اور جوہری ہتھیاروں پر دوبارہ بڑھتے ہوئے انحصار کا امتزاج بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔

چار اہم ترجیحات

خلیل الرحمان نے اس معاملے میں فوری اور فیصلہ کن اقدامات کے لیے چار ترجیحات پر زور دیا:

  • اول: مذاکرات اور پیشگی حفاظتی اقدامات بحال کیے جائیں۔

    بڑی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ بلا تاخیر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور خطرات کی روک تھام کے لیے موثر حفاظتی انتظامات بحال کریں۔
  • دوم: کثیر ملکی نظام کو برقرار رکھا جائے اور مزید مضبوط کیا جائے جو کئی دہائیوں سے جوہری خطرات کو محدود کرنے میں مددگار رہا ہے۔
  • سوم: صرف جوہری ذخائر کو منظم کرنے کے بجائے ان میں کمی لانے اور ان کے مکمل خاتمے کی جانب پیش رفت کی جائے۔
  • چہارم: عوام کو بھی اس کوشش میں شامل کیا جائے۔ جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کے لیے منایا جانے والا عالمی دن آگاہی پیدا کرنے، تعلیم دینے اور لوگوں کو اس مقصد کے لیے فعال کردار کے قابل بنانے کا موقع بھی ہے۔