مجھے گورنرراج یا ایمرجنسی لگتی نظر نہیں آرہی، بلکہ یہ ایک پراپیگنڈا اور دھمکی لگ رہی ہے، شیخ وقاص اکرم

پہلے بھی پارٹی پر پابندی کی باتیں کی گئی تھیں، صوبائی اسمبلی توڑنے کی کوئی بات زیرغور نہیں، پارٹی متحد ہے، تحریک عدم اعتماد کون لائے گا؟ سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 30 ستمبر 2026 22:20

مجھے گورنرراج یا ایمرجنسی لگتی نظر نہیں آرہی، بلکہ یہ ایک پراپیگنڈا ..
اسلام آباد (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 30 ستمبر 2026ء ) مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ مجھے گورنرراج یا ایمرجنسی لگتی نظر نہیں آرہی، بلکہ یہ ایک پراپیگنڈا اور دھمکی لگ رہی ہے، پہلے بھی پارٹی پر پابندی کی باتیں کی گئی تھیں، صوبائی اسمبلی توڑنے کی کوئی بات زیرغور نہیں، پارٹی متحد ہے، تحریک عدم اعتماد کون لائے گا؟ انہوں نے ہم نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی اشارہ نہیں ہے کہ لانگ مارچ کو مؤخر کر کے حکومت سے مذاکرات کی جانب بڑھا جائے، بیرسٹر گوہر اور وزیراعلی کہہ چکے ہیں کہ احتجاج ہر صورت ہو گا، حکومت رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے برداشت کرے، اپوزیشن کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

اسٹریٹ موومنٹ کے سربراہ سہیل آفریدی ہیں اور وہ اس پر واضح ہیں۔

(جاری ہے)

اس وقت تک مجھے بات چیت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ مجھے نہیں پتا کہ پرسوں کیا ہو گا مگر آج کے دن تک مجھے ایمرجنسی ایک پراپگنڈا اور دھمکی لگ رہی ہے۔۔ پہلے بھی پارٹی پر پابندی سمیت کئی باتیں کی گئی تھیں۔ مجھے گورنر راج یا ایمرجنسی لگتی نظر نہیں آ رہی۔

مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ شوکت یوسفزئی کا حق ہے کہ وہ اپنی رائے دیں اور تحفظات کا اظہار کریں، جن لوگوں نے ان پر تنقید کی یہ نامناسب بات ہے۔ پی ٹی آئی بڑی سیاسی جماعت ہے ہر شخص کو رائے کا اظہار کرنے کا استحقاق ہے۔ شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ صوبائی اسمبلی توڑنے والی بات پر پی ٹی آئی پارٹی گروپ میں بات ہوئی، بیرسٹر گوہر نے وزیراعلی سے بھی بات کی اور واضح کیا گیا کہ ایسی کوئی بات زیر غور نہیں ہے۔

اسی طرح تحریک عدم اعتماد کی جہاں تک بات ہے وہ لائے گا کون؟ کیوںکہ ابھی تک پارٹی متحد ہے۔ کوئی ڈی فکیشن نہیں۔ جو عدم اعتماد کی بات ہے، تو کون عدم اعتماد لائے گا؟ اور کس پر لائے گا؟ پی ٹی آئی اس وقت متحد ہے، مجھے کہیں کوئی ڈی فیکشن نظر نہیں آئی۔ کوئی ایم پی اے مجھے جاتے ہوئے نظر نہیں آیا تو پھر کون عدم اعتماد لائے گا؟ جنید اکبر نے یہ جوکہا ہے کہ سہیل آفریدی نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں، انہوں نے ایک متحد ہونے کا میسج دینے کی کوشش کی ہے کہ آپ اگر ہمارے ایک بندے کو ہٹاؤ گے تو ہم سب ایک ہیں۔ کیونکہ جب وفاقی وزراء صوبے میں گورنرراج یا ایمرجنسی کی دھمکی دیں گے تو پھر بطور صوبائی صدر جنید اکبر بھی اسی قسم کا میسج دیں گے ۔