سندھ زرعی یونیورسٹی میں دوسری عالمی کانفرنس برائے زرعی انجینئرنگ اور ٹیکنالوجیز کا آغاز ہوگیا
منگل 10 فروری 2026 21:41
(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں 40 سال سے موجود ہارویسٹر اور کپاس پکنگ مشینیں موجود ہیں لیکن تربیت یافتہ آپریٹرز کی کمی ہے، اس لیے طلبہ کو جدید مشینری کے استعمال پر خصوصی کورسز فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نےکہا کہ ملک میں زرعی زمینوں کی کمی، سڑکوں کے اطراف زمینوں کا کنکریٹ اور عمارتوں میں تبدیل ہونا تشویشناک ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ سندھ ڈاکٹر مظہر الدین کیریو نے خبردار کیا کہ شدید گرمی، ہیٹ ویوز اور دیگر موسمی اثرات کپاس، چاول، مکئی، کیلے اور سبزیوں کی پیداوار کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کی تربیت، محققین اور کاشتکاروں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا اور جدید آبپاشی کے طریقے اپنانا ناگزیر ہے۔پاکستان سوسائٹی آف ایگریکلچرل انجینئرز کے صدر انجینئر منصور رضوی نے چھوٹے کاشتکاروں کے لیے سستی اور ماحول دوست مشینری کے لیے حکومت کی مدد طلب کی۔ بین الاقوامی ماہرین نے بھی اہم نکات پر روشنی ڈالی۔ کینیڈا سے آئے GIS ماہر ڈاکٹر زاہد ملک نے کہا کہ اگلے 25 سالوں میں عالمی خوراک کی طلب بڑھ جائے گی۔ملیشیا سے آئے ڈاکٹر اسد اللہ شاہ نے کہا کہ پاکستان موسمی تبدیلی، پانی کی کمی، خشک سالی اور زمین کی بگاڑ جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے، بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر 2050 تک کاشتکاروں کو 50 فیصد زیادہ خوراک پیدا کرنے کے لیے جدید تکنیکیں اپنانا ہوں گی۔ ڈین آف فیکلٹی آف ایگریکلچرل انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ڈاکٹر منیر احمد منگریو نے موسمی تبدیلی، وسائل کی کمی اور بڑھتی ہوئی خوراک کی طلب کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید انجینئرنگ حل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔اہم شرکاء میں اسریٰ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر احمد ولی اللہ قاضی، یونیورسٹی آف میرپورخاص کے وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد میمن، نیوکلیئر انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محبوب علی سیال، مہران یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر کامران انصاری، FAO کے صوبائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر اشفاق احمد ناہیوں کے علاوہ ملک بھر کے مختلف یونیورسٹیوں کے ڈینز، پروفیسرز، اساتذہ اور طلبہ شامل تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عرفان احمد شیخ اور ڈاکٹر انجینئر ظہیر احمد خان نے بتایا کہ دو روزہ کانفرنس، جس میں FAO کے نمائندگان، قومی اور بین الاقوامی ماہرین، صنعت کے ماہرین اور طلبہ شریک تھے، کو 265 تحقیقی مقالات موصول ہوئے، جن میں سے 131 کو پیش کرنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس کانفرنس کا مقصد موسمیاتی لحاظ سے سمارٹ زراعت، پانی کے انتظام اور جدید ٹیکنالوجیز پر قابل عمل پالیسی تجاویز پیش کرنا ہے۔مزید تعلیم کی خبریں
-
انٹرمیڈیٹ سالانہ امتحانات 2026 ء کی ڈیٹ شیٹ جاری
-
طلبہ وطالبات کی بائیو میٹرک فنگر پرنٹس کے بغیر آن لائن رجسٹریشن کا پراسیس مکمل نہیں ہو گا
-
پنجاب میں ویٹرنری گریجویٹس اور پیراویٹس کے لیے انٹرن شپ پروگرام کا اعلان
-
چوہدری شافع حسین کا پنجاب تیانجن یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی لاہور کا دورہ، مختلف پروگراموں کا افتتاح کیا
-
سی ایس ایس امتحان 2025 کے نتائج جاری، کامیابی کی شرح 2.67 فیصد
-
ہائرایجوکیشن کمیشن نے پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے لیے ایک جدید اور جامع ڈیٹا سسٹم ہیڈز پلیٹ فارم لانچ کر دیا
-
پی ایم ایس 2025،راولپنڈی کے امیدواروں کے امتحانی مراکز لاہور منتقل
-
ْایچ ای سی نے ملک بھر میں بلااجازت نئی یونیورسٹی یا سب کیمپس کے قیام پر پابندی عائد کردی
-
پنجاب یونیورسٹی کا امتحانی نتائج کا اعلان
-
ساہیوال بورڈ کے زیر انتظام نہم کے پہلے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوگیا ہے،کنٹرولر امتحانات
-
کراچی، میٹرک امتحانات میں غیر قانونی سینٹر تبدیلی، وزیر بورڈز اینڈ یونیورسٹی کا اچانک چھاپہ، مرکز منسوخ کرنے کا حکم
-
کراچی میں کیمسٹری کا پرچہ امتحان سے قبل لیک، تعلیمی نظام پر سنگین سوالات
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.