وفاقی وزیر بحری امور کی زیرصدارت اجلاس، پورٹ قاسم میں ’’سی ٹو سٹیل‘‘ منصوبے کا جائزہ لیاگیا

جمعہ 13 فروری 2026 15:54

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 13 فروری2026ء) وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے پورٹ قاسم میں ’’سی ٹو سٹیل‘‘ منصوبے کو تیز کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس کی صدارت کی جس میں صنعتی خودکفالت اور سٹیل کی مقامی پیداوار کے فروغ پر زور دیا گیا۔یہاں جاری بیان کے مطابق اجلاس میں انٹیگریٹڈ میری ٹائم انڈسٹریل کمپلیکس (آئی ایم آئی سی) پر تفصیلی غور کیا گیا جو بندرگاہی انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن، جہاز سازی و ری سائیکلنگ سہولیات کے قیام اور مربوط سٹیل مل کی بحالی پر مشتمل ایک فلیگ شپ منصوبہ ہے جس کا مقصد بحری وسائل کو صنعتی ترقی سے جوڑ کر قومی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔

اجلاس میں چین کے شینڈونگ زنشو گروپ کے نمائندوں اور وزارت بحری امور کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی جبکہ چیئرمین پورٹ قاسم اتھارٹی ریئر ایڈمرل (ر) سید معظم الیاس نے کراچی سے وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں حصہ لیا۔

(جاری ہے)

آئی ایم آئی سی کے تین بنیادی اجزا میں آئرن اور کول برتھ جیٹی کی بحالی اور اپ گریڈیشن شامل ہے۔اس سہولت کے تحت جہازوں کی ری سائیکلنگ اور مرمت کی جائے گی جبکہ حاصل ہونے والا سکریپ سٹیل مل کی بحالی میں استعمال ہوگا۔

منصوبے کو ’’سی ٹو سٹیل گرین میری ٹائم انڈسٹریل کوریڈور‘‘ کا نام دیا گیا ہے جو شپ ری سائیکلنگ کو مقامی سٹیل پیداوار سے جوڑ کر درآمدی خام مال پر انحصار کم کرنے میں مدد دے گا۔چینی کمپنی نے منصوبے میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے ایک جامع فزیبلٹی سٹڈی جمع کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے جس میں مالیاتی، ساختی و ہائیڈروگرافک تجزیے شامل ہوں گے۔

وفاقی وزیر جنید انوار چوہدری نے کہا کہ آئی ایم آئی سی بلیو اکانومی وژن کا اہم ستون ثابت ہو سکتا ہے جو بحری اثاثوں کے ذریعے صنعتی ویلیو ایڈیشن کو فروغ دے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ فزیبلٹی رپورٹ موصول ہونے کے بعد اس کا مکمل اور شفاف جائزہ لیا جائے گا اور حتمی منظوری قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر منصوبہ منظور ہو جاتا ہے تو یہ حالیہ برسوں میں پاکستان کی سب سے بڑی بحری و صنعتی سرمایہ کاری میں شمار ہوگا اور پورٹ قاسم کو خطے میں بھاری صنعت اور لاجسٹکس کے اہم مرکز کے طور پر مستحکم کرے گا۔

وزیر بحری امور نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت روزگار کے مواقع پیدا کرنے، برآمدات بڑھانے، درآمدی بل میں کمی اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہتی ہے۔انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی منظوری کو قومی ترجیحات، ویلیو ایڈیشن اور ماحولیاتی معیار سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہوگا۔