Live Updates

ملک میں سمگل کیے جانے والے ایرانی پٹرول کی قیمت 20 سے 25 روپے فی لیٹر ہونے کاانکشاف

پیر 6 اپریل 2026 22:10

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 06 اپریل2026ء) نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران بارڈر پر 20 سے 25 روپے فی لیٹر پیٹرول کو صوبے میں 280 روپے میں فروخت کیا جارھا ھے اور یہ قیمت حکومت نے مقرر کی ھے جو عوام کے ساتھ زیادتی کا حکومتی فیصلہ ھے۔ بیان میں کہا گیا ھے کہ فی لیٹر 250 روپے سے زائد رقم حکومتی خزانے میں جمع نہیں ھورھی بلکہ مختلف افراد و اشخاص اور ریاستی اداروں کے جیبوں میں چلی جاتی ھے۔

بیان میں کہا گیا ھے کہ حکومت نے خود ایرانی پیٹرول کا بھاری قیمت مقرر کرکے ریاستی اداروں کے چیک پوسٹوں پر بھتہ لینے کیلئے راہ ہموار کی ھے کیونکہ منی پیٹرول پمپ سے منسلک مالکان فی لیٹر پر 250 روپے نہیں کماسکتے بیان میں کہا گیا ھے کہ اس سے قبل صوبے کے اکثر علاقوں میں کم قیمت پر ایرانی پیٹرول دستیاب تھا لیکن امریکہ و اسرائیلی سامراج کا ایران پر جارحیت اور خطے کی صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی پیٹرول کو صوبے میں بلا جواز مہنگا کیا گیا اور اس دوران اربوں روپے کی بھتہ خوری کی گئی جبکہ اب صوبائی حکومت نے بھی زیادہ قیمت مقرر کرکے مختلف چیک پوسٹوں کیلئے بھتہ خوری کو قانونی قرار دیا ھے۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا ھے کہ ایرانی پیٹرول پر بڑے پیمانے پر جاری بھتہ خوری کو بند کیا جائے تو صوبہ بھر میں انتہائی کم قیمت پر پیٹرول دستیاب ھوگا لہذا حکومت صوبے کے تباہ حال عوام اور غربت کو مدنظر رکھتے ہوئے عوام کو ریلیف فراہم کرے اور ایرانی پیٹرول پر ریاستی اداروں کے چیک پوسٹوں پر بھتہ لینے کو مکمل بند کرے۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات