پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات کی بلند شرح کے باوجود لوگ نکوٹین کو کیوں اپنالیتے ہیں؟

Umer Jamshaid عمر جمشید جمعرات 12 فروری 2026 13:15

پاکستان میں تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات کی بلند شرح کے باوجود لوگ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 فروری2026ء) پاکستان میں تمباکو نوشی اب بھی اُن بڑی وجوہات میں سے ایک ہے جن سے بچاؤ ممکن ہونے کے باوجودلوگ بیما ر ہوتے ہیں  اورموت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہر سال تقریباً 1,60,000 سے 1,70,000 افراد تمباکو کے استعمال سے منسلک بیماریوں، جن میں پھیپھڑوں کا سرطان، دل کی بیماریوں، فالج اور سانس کی دائمی بیماریوں کے باعث لقمۂ اجل بن جاتے ہیں۔

اس کے علاوہ، لاکھوں افراد تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی طویل مدتی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جو نہ صرف متاثرہ خاندانوں پر مسلسل بوجھ ہے بلکہ پہلے سے دباؤ کا شکار نظامِ صحت پر بھی بھاری ہے۔پورے  ملک میں، ہسپتالوں میں آج بھی تمباکو سے متعلقہ سرطان اور دل کے ایسے امراض کا علاج کیا جا رہا ہے جن سے باآسانی بچا جا سکتا تھا۔

(جاری ہے)



عوامی صحت کےبارے میں آگاہی کے  پیغامات، اور بالخصوص سگریٹ نوشی کے بارے میں پیغامات،طویل عرصے سے ایک واضح حقیقت پر زور دیتے آئے ہیں کہ تمباکو نوشی ترک کرنا ہی بہترین راستہ ہے۔

تمباکو نوشی کومکمل طور پر ترک کر دینے سے صحت کو لاحق  خطرات نمایاں حد تک کم ہو جاتے ہیں، خواہ مذکورہ شخص کی عمر کچھ بھی ہو یا کوئی شخص کتنے عرصے سے سگریٹ نوشی کر رہا ہو۔تاہم، تمباکو نوشی کے نقصانات سے وسیع پیمانے پرآگاہی فراہم کرنے کے باوجود، بہت سے افراد کے لیے اسے ترک کرنا بے حد مشکل ثابت ہوتا ہے۔ متعدد بار کوشش کرنے والوں میں بھی دوبارہ اس عادت کی طرف لوٹ جانے کی شرح بلند رہتی ہے۔

یہ سمجھنا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے، پاکستان میں تمباکو نوشی کے بحران سے نمٹنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

کئی دہائیوں سے تمباکو نوشی سے متعلقہ بیماریوں کا ذمہ دار بڑی حد تک نکوٹین (Nicotine) کو ٹھہرایا جاتا رہا ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نکوٹین ہی وہ کیمیائی مادہ ہے جو سرطان، امراضِ قلب اور پھیپھڑوں کے نقصان کا سبب بنتا ہے۔ یہ نظریہ وسیع پیمانے پر پایا جاتا ہے اور لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہو چکا ہے۔

تاہم، سائنسی شواہد ایک زیادہ درست حقیقت بیان کرتے ہیں۔

تمباکو نوشی سے منسلک  بیماریوں کی اصل وجہ احتراق  (combustion)ہے، یعنی تمباکو کا جلنا۔ جب سگریٹ جلتی ہے تو اُس سے پیدا ہونے والے دھوئیں میں سینکڑوں دیگر زہریلے اور سرطان پیدا کرنے والے کیمیائی مادے شامل ہوتے ہیں۔ اِن میں تمباکو سے منسلک مخصوص ’نائٹروسامائنز (Nitrosamines)، بینزین (Benzene)، آرسینک(Arsenic) ، کاربن مونو آکسائیڈ(Carbon Monoxide)، اور پولی سائیکلک ایرومیٹک ہائیڈرو کاربن(Polycyclic Aromatic Hydrocarbons)‘  شامل ہیں۔

یہ تمام کیمیائی مادّے مل کر خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، پھیپھڑوں کے بافتوں کو زخمی کر دیتے ہیں اور ، اور جسم کے مختلف اعضاء  میں سرطان کا سبب بنتے ہیں۔ درحقیقت تمباکو کے جلنے سے پیدا ہونے  والا یہی زہریلا آمیزہ تمباکو نوشی کو اس قدر مہلک بناتا ہے۔

نکوٹین کا کردار مختلف ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو سگریٹ کو لت کا باعث بناتا ہے، اور بہت سے افراد ان خطرات کو سمجھنے کے باوجود تمباکو نوشی چھوڑنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

تاہم نکوٹین بذاتِ خود سرطان،امراض قلب یا پھیپھڑوں کی دائمی بیماریوں کی بنیادی وجہ نہیں ہے۔اس فرق کو صحت کے بڑَ اداروں نے بھی تسلیم کیا ہے، جن میں امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) بھی شامل ہے۔اس ادارے کے مطابق اگرچہ نکوٹین لت کا سبب بنتی ہے، لیکن وہ بیماریاں جو تمباکو نوش افراد کی جان لیتی ہیں، دراصل تمباکو کے دھوئیں میں موجود دیگر کیمیائی مادوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔



بڑے پیمانے پر کی جانے والی طبی تحقیقات بھی اس نکتے کی تائید کرتی ہیں۔ نمایاں ترین مطالعات میں سے ایک، لنگ ہیلتھ اسٹڈی(Lung Health Study) نے ہزاروں شرکاء کا ایک دہائی سے زائد عرصے تک جائزہ لیا اور نکوٹین کے متبادل، جیسا کہ چیونگم اور پیچز(patches)، کے طویل المدتی استعمال کا مطالعہ کیا۔محققین کومعلوم ہوا  کہ نکوٹین کا متبادل استعمال کرنے والوں میں بھی پھیپھڑوں کے سرطان، معدے اور آنتوں کے سرطان یا سرطان کے مجموعی خطرات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جبکہ سگریٹ نوشی جاری رکھنے والوں میں بیماری اور اموات کا خطرہ بدستور مضبوط طور پر منسلک رہا۔

 
ان شواہد کے باوجود ابہام برقرار ہے۔ پاکستان میں ہونے والی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحت کے شعبے سے وابستہ افراد کی ایک قابلِ ذکر تعداد اب بھی نکوٹین کو بذاتِ خود سرطان اور دیگر دائمی بیماریوں سے جوڑتی ہے۔یہ غلط فہمی اہمیت رکھتی ہے۔ جب نکوٹین کی لت اور تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصان کو ایک ہی چیز سمجھ لیا جائے تو اس سے عوامی مباحث، پالیسی سازی کے فیصلے اور حتیٰ کہ طبی مشورے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔



ان تمام نکات سے تمباکو نوشی ترک کرنے کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ نکوٹین لت پیدا کرتی ہے اور مکمل طور پر بے ضرر نہیں ہے،چنانچہ  کسی کو بھی اس کا استعمال شروع نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن یہ سمجھنے کے لیے کہ تمباکو نوشی صحت کو کیوں نقصان پہنچاتی ہے اور اسے چھوڑنا اتنا مشکل کیوں ہوتا ہے، ’لت(addiction) ‘ اور ’بیماری(disease)‘ کے درمیان فرق کو واضح طور پر سمجھنا ضروری ہے۔نکوٹین یہ بتاتی ہے کہ لوگ سگریٹ نوشی کیوں جاری رکھتے ہیں، جبکہ ’احتراق (تمباکو کے جلنے کا عمل)‘  سے یہ پتا چلتا ہے کہ تمباکو نوشی جان لیوا کیوں ثابت ہوتی ہے۔ اس فرق کو سمجھنا اور تسلیم کرنا پاکستان میں تمباکو نوشی کے باعث ہونے والے بھاری جانی نقصان کو کم کرنے کی جانب ایک بنیادی اور ناگزیر قدم ہے۔