ٹ*پاکستانی خواتین سینیٹ کے ایجنڈے کا پانچواں حصہ طے کر رہی ہیں، فافن

Eرپورٹ نے روایتی تصورات کو چیلنج کرتے ہوئے ظاہر کیا ہے کہ خواتین کی توجہ صرف صنفی مسائل تک محدود نہیں بلکہ معیشت، سیکیورٹی اور ٹیکس جیسے اہم شعبوں تک پھیلی ہوئی ہے fقومی اسمبلی خواتین کی تجاویز پر "کسی حد تک کم ردِعمل" دکھاتی ہے جبکہ مباحثوں میں ان کی شرکت اب بھی محدود ہے۔ بی اے پی کی ثمینہ ممتاز زہری سب سے متحرک خاتون رکن کے طور پر سامنے آئیں

جمعہ 10 اپریل 2026 20:40

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 اپریل2026ء) فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک (فافن)کی ایک نئی کارکردگی رپورٹ کے مطابق، خواتین سینیٹرز نے 2025-2026 کے پارلیمانی سال کے دوران سینیٹ کے ایجنڈے کا تقریبا 20 فیصد حصہ تشکیل دیا، جو ایوان میں ان کی نمائندگی (تقریبا 18 فیصد) سے کچھ زیادہ ہے۔رپورٹ بعنوان "خواتین سینیٹرز کی کارکردگی" کے مطابق، بی اے پی کی ثمینہ ممتاز زہری سب سے زیادہ متحرک رہیں۔

انہوں نے خواتین کی جانب سے پیش کیے گئے 207 ایجنڈا آئٹمز میں سے 62 جمع کروائے۔ان کے بعد پی ایم ایل-ن کی انوشہ رحمان (32 آئٹمز)، پیپلز پارٹی کی شیری رحمان (25)، قر العین مری (24) اور بشری انجم بٹ (23) شامل ہیں۔ ان پانچ خواتین سینیٹرز کی مجموعی شراکت خواتین کے کل ایجنڈے کا 80 فیصد سے زیادہ بنتی ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق، ہر خاتون سینیٹر نے اوسطا 13 ایجنڈا آئٹمز جمع کروائے، جبکہ مرد سینیٹرز کی اوسط 11 رہی۔

تاہم مجموعی طور پر خواتین کا حصہ گزشتہ سال (31 فیصد) کے مقابلے میں کم ہو کر 20 فیصد رہ گیا۔حاضری کے لحاظ سے، پی ٹی آئی کی فلک ناز نے 100 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی۔ ان کے بعد پیپلز پارٹی کی حسینہ بانو (57 فیصد)، پی ٹی آئی کی فوزیہ ارشد (83 فیصد)، سعدیہ عباسی (80 فیصد) اور ایم کیو ایم کی خالدہ عتیق 77 فیصدرہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ خواتین کی حاضری مجموعی طور پر مردوں سے بہتر رہی، لیکن مباحثوں میں شرکت محدود رہی اور زیادہ تر خواتین "کم بولنی" کے زمرے میں آئیں۔

صرف ایک خاتون سینیٹر ایسی تھیں جنہوں نے کسی بھی بحث میں حصہ نہیں لیا۔فافن نے سینیٹ کی جانب سے خواتین کی قانون سازی پر ردِعمل کا بھی جائزہ لیا۔ "جینڈر رسپانسیو نیس اسکور" (GRS) کے تحت سینیٹ کو 0.9 اسکور دیا گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ ادارہ خواتین کے ایجنڈے پر "کسی حد تک کم ردِعمل" رکھتا ہے۔خاص طور پر، خواتین کی جانب سے پیش کیے گئے توجہ دلا نوٹس اور قواعد میں ترامیم پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، جبکہ سوالات اور نجی بلز کو مردوں کے برابر توجہ ملی۔

رپورٹ کے مطابق خواتین سینیٹرز آٹھ کمیٹیوں کی سربراہی بھی کر رہی ہیں، جو کل کمیٹی چیئرمین شپ کا تقریبا 18 فیصد بنتا ہے۔یہ رپورٹ اس تاثر کو بھی غلط ثابت کرتی ہے کہ خواتین صرف صنفی مسائل پر توجہ دیتی ہیں۔ ان کے ایجنڈے میں معیشت، قومی سلامتی، گورننس اور پارلیمانی طریقہ کار جیسے اہم موضوعات شامل تھے۔آخر میں رپورٹ نے زور دیا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ خواتین کی نمائندگی کو صرف مخصوص نشستوں تک محدود رکھنے کے بجائے عام نشستوں پر بھی بڑھایا جائی