مصنوعی ذہانت کے بے لگام گھوڑے کو قابو میں لانا کیوں ضروری؟
یو این
جمعرات 2 جولائی 2026
05:30
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 02 جولائی 2026ء) مصنوعی ذہانت پر اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل نے خبردار کیا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی صلاحیتیں برق رفتار سے بڑھ رہی ہیں جبکہ اس کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے والے قوانین اور ضوابط اس رفتار کا ساتھ نہیں دے پا رہے۔
پینل کی جانب سے اس مسئلے پر جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چند سال پہلے تک مصنوعی ذہانت صرف سوالوں کے جواب دے سکتی تھی یا تحریری مواد تیار کر سکتی تھی۔
لیکن آج یہ کمپیوٹر پروگرام لکھنے، بے شمار اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے، حقیقت سے قریب تر تصاویر اور ویڈیو بنانے، سائنس دانوں کو نئی ادویات دریافت کرنے میں مدد دینے اور کم سے کم انسانی نگرانی کے ساتھ خود مختارانہ انداز میں مختلف کام انجام دینے کی صلاحیت بھی حاصل کر چکی ہے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں ترقی بہت سے فوائد کے ساتھ خطرات بھی لائی ہے۔
اگرچہ اس کا موثر عالمی انتظام یقینی بنانے کا موقع اب بھی موجود ہے لیکن یہ زیادہ عرصہ تک برقرار نہیں رہے گا۔
مصنوعی ذہانت کی نئی نسل
مصنوعی ذہانت مستقبل میں انسانیت کی ایک بہت بڑی انقلابی ٹیکنالوجی ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر اسے ذمہ دارانہ طور سے استعمال کیا جائے تو یہ صحت، تعلیم، سائنسی تحقیق، زراعت اور معذور افراد کے لیے سہولیات میں نمایاں بہتری لا کر پائیدار ترقی کے اہداف کی جانب پیش رفت کو تیز کر سکتی ہے۔
تاہم، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مناسب حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہی ٹیکنالوجی عدم مساوات میں اضافے، جھوٹی معلومات کے پھیلاؤ، انسانی حقوق کے لیے خطرات، روزگار کے مواقع میں خلل اور مصںوعی ذہانت کی طاقت کو چند حکومتوں اور بڑی کمپنیوں تک محدود کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
اب مصنوعی ذہانت کی نئی نسل سامنے آ رہی ہے جو صرف سوالات کے جواب دینے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے ایسے ایجنٹ سامنے آ رہے ہیں جو خود منصوبہ بندی کر سکتے ہیں، ڈیجیٹل آلات استعمال کر سکتے ہیں، سافٹ ویئر لکھ سکتے ہیں اور پیچیدہ کام تقریباً انسانی نگرانی کے بغیر مکمل کر سکتے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ ایسے نظام کی پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت ہر چند ماہ بعد تقریباً دوگنا بڑھ رہی ہے۔غیرمعمولی فوائد
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے کئی شعبوں میں مفید کام لیا جا رہا ہے۔
طبی میدان میں انقلابی پیش رفت: مصنوعی 20 کروڑ سے زیادہ پروٹینز کی ساخت کی پیش گوئی کر چکی ہے جس سے نئی ادویات، ویکسین اور جراثیمی مزاحمت پر تحقیق میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔
صحت کی سہولیات میں بہتری: ڈاکٹرمصنوعی ذہانت کی مدد سے چھاتی کے سرطان جیسی بیماریوں کی بروقت تشخیص کر رہے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں طبی عملہ مقامی زبانوں پر مبنی مصنوعی ذہانت کے آلات کے ذریعے مریضوں کو بہتر خدمات فراہم کر رہا ہے۔
غذائی تحفظ: مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ابتدائی انتباہی نظام خوراک کی قلت کو بحران بننے سے پہلے ہی شناخت کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
بہتر زندگی کے مواقع: مصنوعی ذہانت سائنسی تحقیق کو فروغ دے رہی ہے، جسمانی معذور افراد کے لیے ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ قابل رسائی بنا رہی ہے اور تعلیم و ذہنی صحت کے شعبوں میں معاونت کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے۔
ماہرین کے خدشات
مصنوعی ذہانت میں ترقی کے ساتھ کئی نئے خطرات بھی جنم لے رہے ہیں۔
آن لائن استحصال: مصنوعی ذہانت جنسی استحصال پر مبنی مواد اور جعلی فحش تصاویر اور ویڈیوز (ڈیپ فیکس) کے پھیلاؤ کو بڑھا رہی ہے جس کا سب سے زیادہ نشانہ خواتین اور بچے بن رہے ہیں۔
غلط معلومات کا پھیلاؤ: یہ ٹیکنالوجی ایسی جھوٹی معلومات تیار کر سکتی ہے جو حقیقی محسوس ہوتی ہیں اور ان سے عوامی اعتماد، جمہوری عمل اور سماجی مباحث متاثر ہو سکتے ہیں۔
جرائم میں اضافہ: جرائم پیشہ عناصر مصنوعی ذہانت کو سائبر حملوں اور مالی و سماجی دھوکہ دہی جیسے جرائم کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
ذہنی صحت کے مسائل: مصنوعی ذہانت کے بعض نظام نقصان دہ خیالات اور رویوں کو تقویت دیتے ہیں جو ذہنی صحت کے شدید بحران حتیٰ کہ خودکشی جیسے سنگین نتائج کا سبب بن سکتے ہیں۔
اختیار کا مسئلہ: مصںوعی ذہانت کی خود مختاری میں اضافے کے ساتھ ماہرین کو خدشہ ہے کہ موثر حفاظتی اقدامات کے بغیر اس کی نگرانی اور اس پر موثر کنٹرول رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
ماحولیاتی اثرات: مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے بڑے ڈیٹا مراکز توانائی کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں جس سے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج بڑھتا ہے اور عالمی حدت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ٹیکنالوجی پر غیرمساوی اختیار
رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت پر مبنی دنیا کے جدید ترین سپر کمپیوٹرز کی تقریباً 75 فیصد صلاحیت امریکہ اور 15 فیصد چین کے پاس ہے۔
اس طرح، دونوں ممالک مجموعی طور پر دنیا میں مصںوعی ذہانت کی تقریباً 90 فیصد طاقت پر قابض ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے جدید ترین ماڈل بھی زیادہ تر انہی دو ممالک کی کمپنیاں تیار کرتی ہیں۔بہت سے ترقی پذیر ممالک کے پاس کمپیوٹنگ کا بنیادی ڈھانچہ، تکنیکی مہارت، سرمایہ کاری، معیاری ڈیٹا اور مقامی زبانوں کے وسائل موجود نہیں جس کے باعث وہ ایسی ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں جسے نہ وہ خود تیار کر سکتے ہیں، نہ اس کا موثر جائزہ لے سکتے ہیں اور نہ ہی اسے اپنی معاشرتی ضروریات کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس فرق کو دور نہ کیا گیا تو مصنوعی ذہانت عدم مساوات کو کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا سکتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کی ضابطہ بندی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں موجودہ حکومتی اور قانونی نظام اس قدر تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی کو اپنے قابو میں رکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔
حکومتوں کو اس معاملے میں ایک ایسے مسئلے کا سامنا ہے جسے ماہرین شواہد کا مخمصہ قرار دیتے ہیں۔ قانون سازی کے لیے قابل اعتماد سائنسی شواہد درکار ہوتے ہیں، مگر مصنوعی ذہانت کے حوالے سے جب تک یہ شواہد دستیاب ہوتے ہیں تب تک ٹیکنالوجی ایک نئی منزل طے کر چکی ہوتی ہے۔
اگرچہ دنیا کے مختلف حصوں میںمصنوعی ذہانت سے متعلق 40 سے زیادہ ضابطے، اخلاقی اصول اور انتظامی طریقہ کار موجود ہیں، لیکن ان میں سے بیشتر منتشر، غیر مساوی اور غیرآموزدہ ہیں۔ علاوہ ازیں، مصنوعی ذہانت سے وابستہ مسائل کا جائزہ بھی اکثر وہی کمپنیاں لیتی ہیں جو یہ ٹیکنالوجی خود تیار کر رہی ہوتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو محفوظ، شفاف اور جوابدہ بنانے کے لیے اس کی آزادانہ جانچ، بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ عالمی معیارات ناگزیر ہیں۔
اقوام متحدہ کے اقدامات
اقوام متحدہ
مصنوعی ذہانت سے متعلق بہتر عالمی انتظام کے لیے ایک نئے بین الاقوامی نظام کی تشکیل میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ جنرل اسمبلی نے 2025 میں مصنوعی ذہانت پر آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل برائے قائم کیا تھا جس میں دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے 40 ماہرین اپنی ذاتی حیثیت میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔اس پینل کا کردار قانون سازی نہیں بلکہ سائنسی بنیادوں پر مصںوعی ذہانت کے فوائد، خطرات اور اثرات کا باقاعدگی سے جائزہ لینا اور ایسی آزاد رپورٹس تیار کرنا ہے جن کی بنیاد پر حکومتیں اپنی پالیسیاں تشکیل دے سکیں۔
پینل کی سفارشات مصںوعی ذہانت کے انتظام سے متعلق عالمی مکالمے میں پیش کی جائیں گی جس کا آغاز 6 جولائی 2026 کو جنیوا میں ہو گا۔ اس موقع پر رکن ممالک مصںوعی ذہانت کی ضابطہ بندی کے مختلف طریقوں پر غور کریں گے۔
مزید اہم خبریں
-
ملک کے متعدد علاقوں میں طوفانی بارشیں؛ مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق، درجنوں زخمی
-
مصنوعی ذہانت کے بے لگام گھوڑے کو قابو میں لانا کیوں ضروری؟
-
اے آئی کے فوائد و نقصانات پر بین الاقوامی پینل کی رپورٹ کا خیرمقدم
-
غزہ: اسرائیلی توسیع پسندی سے شہری اور امدادی کارکن مشکلات کا شکار
-
لاہور میں 112 چالان والی موٹرسائیکل پکڑی گئی
-
ستھرا پنجاب کے ورکر نے خودکشی کی، ایک بزرگ کے پاس کفن کیلئے پیسے نہیں تھے لیکن مریم اورنگزیب متکبرانہ انداز میں کہتی کہ جہازخریدا ہے
-
مشیر سیاحت خیبرپختون خواہ ملک عدیل اقبال کا سوات میں کشتی الٹنے سے6 افراد کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار
-
سیف اللہ جھیل کالام میں کشتی الٹنے سے خواتین اور بچوں سمیت ایک ہی خاندان 6 افراد جاں بحق
-
یورپ میں گرمی کی شدت موسمیاتی تبدیلی کی واضح نشانیاں: ڈبلیو ایچ او
-
تعلیم اور پریشانیوں پر صلاح کے لیے بچوں کا اے آئی پر بڑھتا انحصار
-
آبنائے ہرمز کا کھلنا خوش آئند، لیکن معاشی بحالی فوری ممکن نہیں: انکٹاڈ
-
وینزویلا زلزلہ: ملبے تلے دبے افراد کی بازیابی وقت کے خلاف دوڑ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.