غزہ: اسرائیلی توسیع پسندی سے شہری اور امدادی کارکن مشکلات کا شکار

یو این جمعرات 2 جولائی 2026 05:30

غزہ: اسرائیلی توسیع پسندی سے شہری اور امدادی کارکن مشکلات کا شکار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 02 جولائی 2026ء) اقوام متحدہ اور اس کے امدادی شراکت داروں نے خبردار کیا ہے کہ اکتوبر میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد غزہ میں اسرائیل کے زیرتسلط علاقوں میں مسلسل توسیع کے باعث شہریوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں اور امدادی کارروائیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ کے متعدد علاقوں میں لوگوں کی مسلسل نقل مکانی جاری ہے اور انسانی بحران سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تمام امدادی اداروں پر مشتمل ٹیم نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے زیرتسلط علاقوں کی وسعت میں مسلسل اضافے اور نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث امدادی کارکنوں کی رسائی محدود ہو گئی ہے اور بے گھر ہو جانے والے شہریوں کے لیے محفوظ جگہ مزید کم ہوتی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

Tweet URL

بیان کے مطابق، جنگ بندی کے آغاز سے ہی اسرائیلی فوج اپنے زیر تسلط علاقوں میں رسائی پر پابندیاں نافذ کرنے کے لیے مہلک طاقت استعمال کر رہی ہے۔

10 اکتوبر 2025 سے اپریل کے اوائل تک اسرائیلی فوج کی تعیناتی والے علاقوں کے قریب حملوں میں 196 فلسطینیوں کی ہلاکت ہو چکی ہے جن میں 18 خواتین اور 43 بچے بھی شامل ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں بیشتر لوگ ایسے علاقوں سے گزر رہے تھے جہاں زمین پر حدود کا کوئی واضح نشان موجود نہیں تھا۔ ایسے واقعات میں لوگوں کی بڑی تعداد زخمی بھی ہو رہی ہے۔

امدادی سرگرمیاں معطل

بیان میں کہا گیا ہے کہ نقل و حرکت پر پابندیوں کے باعث امداد کی فراہمی میں مسلسل تاخیر اور رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

کئی امدادی اداروں کو اپنی اہم خدمات محدود یا عارضی طور پر معطل کرنا پڑی ہیں۔ شہریوں کے لیے دستیاب رہائشی اور محفوظ علاقے تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ غزہ کے زیادہ تر فلسطینی پہلے ہی کئی مرتبہ بے گھر ہو چکے ہیں اور اب انتہائی محدود علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق، اس وقت غزہ کی تقریباً 65 فیصد زمین ایسے علاقوں پر مشتمل ہے جہاں رسائی محدود ہے۔

ان میں سے بیشتر مقامات پر مقامی لوگوں کا داخلہ ممنوع ہے جبکہ امدادی اداروں کو بھی وہاں جانے کے لیے پیشگی رابطہ اور اجازت درکار ہوتی ہے۔ سمندری راستے سے رسائی بھی بدستور بند ہے۔

شہریوں پر حملے روکنے کا مطالبہ

اقوام متحدہ اور امدادی اداروں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے جن پر اسرائیلی فوج کے قریب جانے کا شبہ کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق ہر طرح کے حالات میں شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ غزہ کے علاقے بیت لاہیہ میں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی کے بعد متعدد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے فضائی حملوں کے ذریعے آتش گیر گولہ بارود استعمال کرتے ہوئے تین خیموں کو آگ لگا دی اور زرد لکیر میں مزید توسیع کی نشاندہی کے لیے علاقے میں کنکریٹ بلاک نصب کر دیے ہیں۔

صحت عامہ کا بحران

امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں جلد کی بیماریوں اور اسہال کے پھیلاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ محدود جگہوں پر بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی، صاف پانی کی قلت اور صفائی کے ناقص انتظامات اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

رسائی کی کڑی پابندیوں اور وسائل کی کمی کے باعث امدادی کارروائیاں پہلے ہی محدود ہیں۔

رواں سال امدادی منصوبے کے لیے درکار وسائل میں سے اب تک ایک چوتھائی سے بھی کم موصول ہوئے ہیں۔

ان تمام مشکلات کے باوجود، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کے علاقے فراس مارکیٹ میں جنگ کے دوران جمع ہونے والے ٹھوس کچرے کے بہت بڑے ڈھیر کا نصف حصہ صاف کر دیا ہے جو اس تاریخی تجارتی مرکز کی بحالی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔