اے آئی کے فوائد و نقصانات پر بین الاقوامی پینل کی رپورٹ کا خیرمقدم

یو این جمعرات 2 جولائی 2026 05:30

اے آئی کے فوائد و نقصانات پر بین الاقوامی پینل کی رپورٹ کا خیرمقدم

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 02 جولائی 2026ء) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی مشترکہ عالمی اصولوں اور ضابطوں کے بغیر جاری رہی تو اس کے مستقبل پر حکومتوں اور لوگوں کا اختیار مسلسل کم ہوتا جائے گا جس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

سیکرٹری جنرل نے اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے فوائد، اس سے لاحق خطرات اور اس کے معاشی و سماجی اثرات پر پہلی جامع رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو باضابطہ بنانے میں مزید تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔

Tweet URL

انہوں نے کہا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کا درست استعمال کیا جائے تو یہ ترقی کا سب سے طاقتور ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے جو صحت، غذائی تحفظ، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی جیسے شعبوں میں تیز رفتار بہتری لائے گی۔

(جاری ہے)

لیکن یہ رپورٹ ایسے ہولناک خطرات کی نشاندہی بھی کرتی ہے جو مصنوعی ذہانت سے لاحق ہو سکتے ہیں۔

'مصنوعی ذہانت کے فوائد، خطرات اور اثرات کا شواہد پر مبنی ابتدائی جائزہ' کے عنوان سے یہ رپورٹ تیار کرنے والا 40 رکنی پینل دنیا کا پہلا مکمل طور پر آزاد عالمی سائنسی ادارہ ہے جو مختلف معیشتوں اور معاشروں پر مصنوعی ذہانت کے حقیقی اثرات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

مصنوعی ذہانت کا منفی رویہ

پینل کے شریک سربراہ یوشوا بینجیو نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں انسان کی سائنسی سمجھ بوجھ اور قانون سازی کی رفتار سے کہیں آگے نکل گئی ہیں۔ آج دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ لوگ گفتگو کرنے والی مصنوعی ذہانت استعمال کر رہے ہیں جبکہ حکومتیں تیزی سے بدلتی اور اکثر متضاد معلومات کی بنیاد پر اہم فیصلے کر رہی ہیں جن میں مقامی حالات کا مکمل عکس بھی موجود نہیں ہوتا۔

مصنوعی ذہانت کے دھوکہ دہی پر مبنی رویوں کے شواہد مسلسل سامنے آ رہے ہیں اور موجودہ سائنسی علم اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ مستقبل میں مزید طاقتور مصنوعی ذہانت خود یا بدنیت افراد کے ہاتھوں انسانیت کے لیے تباہ کن خطرہ نہیں بنے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ موثر فیصلے لینے کے لیے عالمی پالیسی سازوں کو مصنوعی ذہانت کی مکمل سائنسی سمجھ بوجھ ہونا ضروری ہے اور یہ رپورٹ یہی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

پینل کی شریک سربراہ ماریا ریسا نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہی تو انسانیت مصنوعی ذہانت کے ممکنہ فوائد سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا سکے گی۔

UN Photo/Mark Garten سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش مصنوعی ذہانت سے متعلق آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل کی ابتدائی رپورٹ کے اجراء کے موقع پر نیو یارک میں صحافیوں سے خطاب کر رہے ہیں۔

رپورٹ کی اہم تنبیہات

  • رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کی کوئی سائنسی ضمانت موجود نہیں کہ مصنوعی ذہانت کے خودکار نظام ہمیشہ دی گئی ہدایات پر عمل کریں گے بلکہ ایسے شواہد بڑھ رہے ہیں کہ بعض اوقات وہ ہدایات سے انحراف بھی کرتے ہیں۔
  • مستقبل قریب میں مصنوعی ذہانت پروگرامنگ کے ایسے کام انجام دے سکے گی جنہیں انسان کئی دن یا ہفتوں میں کرتے ہیں۔

    اس سے روزگار، سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت پر انسانی کنٹرول سے متعلق نئے سوالات پیدا ہوں گے۔
  • مصنوعی ذہانت صارف کے غلط یا بے بنیاد خیالات کی تائید بھی کرتی ہے اور ذہنی صحت کے کئی سنگین واقعات اور بعض مستند اموات کے پیچھے بھی اس کا یہی رویہ کارفرما تھا۔
  • جرائم پیشہ عناصر مصنوعی ذہانت کو سائبر حملوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

  • جدید مصنوعی ذہانت کی مدد سے کم تجربہ رکھنے والے افراد بھی دھوکہ دہی، غلط معلومات پھیلانے اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں۔
  • مصنوعی ذہانت کے انتہائی خودمختار نظام پر انسان کے موثر کنٹرول کو برقرار رکھنے کے قابل اعتماد طریقے موجود نہیں ہیں۔

خطرات میں کمی کا راستہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور اس سے لاحق خطرات کو کم کرنے کے لیے اس کا موثر انتظام ناگزیر ہے۔

اس مقصد کے لیے ایسے طریقہ کار موجود ہیں جو موجودہ خلا کو پر کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے رکن ممالک کو اپنی صلاحیتیں بڑھانے، مصنوعی ذہانت کا جائزہ لینے، اس کی نگرانی کرنے اور اسے ذمہ دارانہ طور سے استعمال کرنے پر مستقل سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔

اقوام متحدہ کے انڈر سیکرٹری جنرل اور ڈیجیٹل و نئی ٹیکنالوجی سے متعلق ادارے کے نمائندہ خصوصی امن دیپ گل نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ فیصلہ سازوں کے لیے ایک مشترکہ سائنسی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے فوائد انہی جگہوں تک زیادہ پہنچتے ہیں جہاں پہلے سے مضبوط ادارے، مہارتیں اور معیاری ڈیٹا موجود ہو۔ جہاں یہ سہولیات نہیں ہوتیں، وہاں یہی ٹیکنالوجی روزگار میں کمی لانے اور عدم مساوات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔