سرکاری ہسپتالوں میں وبائی امراض ،ادویات و علاج سے متعلق کیس ،تفصیلی رپورٹس طلب

اسوقت پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 1785وینٹی لیٹرز فعال ہیں‘ محکمہ صحت کی رپورٹ

پیر 27 اپریل 2026 16:03

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 اپریل2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری ہسپتالوں میں وبائی امراض، ادویات اور علاج کی سہولیات سے متعلق کیس میں وینٹی لیٹرز کی دستیابی اور منکی پاکس کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتے ہوئے آئندہ سماعت پر مزید تفصیلی رپورٹس طلب کر لیں۔جسٹس ملک محمد اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے دوران محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے اسپیشل سیکرٹری نے پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز کی تعداد سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔رپورٹ کے مطابق اس وقت پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 1785وینٹی لیٹرز فعال ہیں۔ لاہور کے بڑے ہسپتالوں میں میو ہسپتال میں 134، سروسز ہسپتال میں 82، چلڈرن ہسپتال میں 122، جناح ہسپتال میں 76، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی)میں 60، گنگا رام ہسپتال میں 79 جبکہ لاہور جنرل ہسپتال میں 78وینٹی لیٹرز فعال ہونے کی نشاندہی کی گئی۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں کے لیے 200مزید وینٹی لیٹرز کی خریداری کی جا چکی ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے ہسپتالوں کو 48وینٹی لیٹرز فراہم کیے گئے ہیں۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں وینٹی لیٹرز کی تعداد ناکافی ہے۔عدالت نے اس موقع پر اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار کیا کہ آیا حکومت مزید وینٹی لیٹرز خرید رہی ہے یا نہیں، جس پر بتایا گیا کہ حکومت سرکاری ہسپتالوں کے لیے مزید 400وینٹی لیٹرز خریدنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر اس حوالے سے مکمل تفصیلات پیش کی جائیں۔دوران سماعت عدالت نے منکی پاکس کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھائے اور استفسار کیا کہ اس وقت پنجاب میں منکی پاکس کے کتنے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اس مرض کے علاج کے لیے کون سی ادویات دستیاب ہیں اور حکومت نے اس حوالے سے کیا حفاظتی اقدامات اور آگاہی مہم شروع کی ہے۔ عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ آیا منکی پاکس کے مریضوں کے لیے علیحدہ آئسولیشن وارڈز قائم کیے گئے ہیں یا نہیں۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر محکمہ پاپولیشن ہیلتھ کے ذمہ دار سینئر افسر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے تمام متعلقہ تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4مئی تک ملتوی کر دی۔