لاہور ہائیکورٹ،سرکاری ہسپتالوں میں وینٹیلیٹرز کی تعداد سے متعلق رپورٹ پیش

پیر 27 اپریل 2026 23:07

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 اپریل2026ء) لاہور ہائیکورٹ میں سرکاری ہسپتالوں میں وبائی امراض کے علاج اور ادویات کی عدم فراہمی سے متعلق متفرق درخواست پراسپیشل سیکرٹری محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے پنجاب بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں وینٹیلیٹرز کی تعداد سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک محمد اویس خالد نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی ۔

سوموار کو عدالت میں جمع کروائی گئی رپورٹ پراسپیشل سیکرٹری محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 1785 وینٹیلیٹرز فعال ہیں، میو ہسپتال میں 134، سروسز ہسپتال میں 82، چلڈرن ہسپتال میں 122، جناح ہسپتال میں 76، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) میں 60، گنگا رام ہسپتال میں 79 جبکہ لاہور جنرل ہسپتال میں 78 وینٹیلیٹرز فعال ہونے کی نشاندہی کی گئی، سرکاری ہسپتالوں کے لیے 200 مزید وینٹیلیٹرز کی خریداری کی جا چکی ہے جبکہ جنوبی پنجاب کے ہسپتالوں کو 48 وینٹیلیٹرز فراہم کئے گئے ہیں۔

(جاری ہے)

عدالت نے مزید سماعت 4 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹس کے ساتھ محکمہ پاپولیشن ہیلتھ کے ذمہ دار سینئر افسر کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ اس وقت پنجاب میں منکی پاکس کے کتنے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں؟ اس مرض کے علاج کے لیے کون سی ادویات دستیاب ہیں؟ حکومت نے اس حوالے سے کیا حفاظتی اقدامات اور آگاہی مہم شروع کی ہے؟ منکی پاکس کے مریضوں کے لیے علیحدہ آئسولیشن وارڈز قائم کیے گئے ہیں یا نہیں؟ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ مریضوں کی تعداد کے مقابلے میں وینٹیلیٹرز کی تعداد ناکافی ہے۔

عدالت نے اس موقع پر اسپیشل سیکرٹری ہیلتھ سے استفسار کیا کہ آیا حکومت مزید وینٹیلیٹرز خرید رہی ہے یا نہیں، جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت سرکاری ہسپتالوں کے لیے مزید 400 وینٹیلیٹرز خریدنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔