معاشی استحکام کی جانب سفرجاری ، رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 4فیصد رہنے کی توقع ہے،محمداورنگزیب

منگل 28 اپریل 2026 18:17

معاشی استحکام کی جانب سفرجاری ، رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو 4فیصد ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 28 اپریل2026ء) وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ پائیدارمعاشی استحکام کی جانب ہمارا سفرجاری ہے،معاشی شعبے میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات پرعمل پیرا ہیں ، جاری مالی سال مجموعی قومی پیداوارمیں نموکی شرح 4فیصدکے قریب رہنے کی توقع ہے،ملکی صنعتوں کومسابقتی بنانے کیلئے ٹیرف کومعقول بنایاگیا،برآمدی صنعتوں کی ترقی کیلئے خام مال پرٹیکسوں اورڈیوٹیز میں کمی کی گئی ہے۔

منگل کویہاں یورپی یونین-پاکستان اعلیٰ سطحی بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ پائیدارمعاشی استحکام کی جانب ہمارا سفرجاری ہے،معاشی شعبے میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات پرعمل پیراہیں ،پائیداراقتصادی ترقی کیلئے معاشی اصلاحات ناگزیرہیں۔

(جاری ہے)

پاکستان اوریورپی یونین کے درمیان تعلقات کاحوالہ دیتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ یورپی یونین پاکستان کی برآمدات کیلئے مفید منڈی ہے۔

انہوں نے کہاکہ چند ماہ سے کلی معیشت مستحکم ہورہی ہے، مالیاتی لحاظ سے پاکستان نے پرائمری سرپلس حاصل کیاہے،مجموعی قومی پیداوارمیں نمو کے حوالے سے پاکستان بہترپوزیشن میں ہے، اس سال کے آغاز میں ہم نے بتایاتھا کہ ہماری جی ڈی پی کی نموکی شرح 3.7فیصد سے 4.7فیصدکے درمیان ہوسکتی ہے،اس سال ہماری جی ڈی پی 4فیصدکے قریب ہوسکتی ہے جوگزشتہ سال کے 3.1فیصدکے مقابلہ میں بہت بہتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ حسابات جاریہ کے کھاتوں کی صورتحال بھی بہترہے، مالی سال کے پہلے 9ماہ میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن 174ملین ڈالر فاضل رہا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1.755 ارب ڈالر فاضل تھا، مارچ میں حسابات جاریہ کے کھاتے 1.070ارب ڈالر فاضل ریکارڈ کئے گئے جوفروری میں 231ملین ڈالر فاضل اورگزشتہ سال مارچ میں 1.276ارب ڈالر فاضل تھے۔

انہوںنے کہاکہ مالی سال کے پہلے 9ماہ میں بنیادی خسارہ(پرائمری بیلنس6.331)ارب ڈالر ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 6.829ارب ڈالر کے مقابلے میں 7فیصدکم ہے،مارچ میں پرائمری خسارہ607ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔وزیرخزانہ نے کہاکہ ملکی برآمدات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کاحصہ مسلسل بڑھ رہاہے، آئی ٹی کی برآمدات میں مالی سال کے پہلے 9ماہ کے دوران سالانہ بنیاد پر20فیصد اورمارچ میں ماہانہ بنیاد پر13فیصد اضافہ ہوا ،مالی سال کے پہلی9ماہ میں آئی ٹی کی برآمدات سے ملک کو3.39ارب ڈالرزرمبادلہ حاصل ہواجوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 20فیصدزیادہ ہے،اسی طرح مارچ میں آئی ٹی برآمدات کاحجم 413ملین ڈالرریکارڈکیاگیا جوفروری کی365ملین ڈالرکے مقابلے میں 13فیصد اورگزشتہ سال مارچ کے 329ملین ڈالرکے مقابلے میں21فیصدزیادہ ہے ،اڑان پاکستان پروگرام کے تحت مالی سال2029تک آئی ٹی کی برآمدات کاہدف10ارب ڈالرمقرر کیا گیاہے۔

انہوں نے کہاکہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹس سے ترسیلات زر اورسرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ہورہاہے،اس وقت 90فیصدکی قریب ترسیلات ڈیجیٹل طریقے سے ہورہی ہے،مارچ میں سمندر پار پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے ذریعے 261ملین ڈالر زرمبادلہ ملک ارسال کیا، ستمبر 2020سے اب تک سمندر پار پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکائونٹس کے ذریعے 12.426ارب ڈالر کا زرمبادلہ ملک ارسال کیا ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں نے اس دوران ان اکائونٹس کے ذریعے ملک میں 1.737ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کی ،ان اکائونٹس کے ذریعے نیا پاکستان روایتی سرٹیفکیٹ میں 538ملین ڈالر ، اسلامی نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں 1.093ارب ڈالر اور سٹاک ایکسچینج میں 106ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاری پرحاصل منافع کی منتقلی بھی ہورہی ہے جوپائیدار اورمستحکم ہوتی معیشت کی عکاسی کررہی ہے ، پاکستان نے طویل عرصہ کے بعد بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں شمولیت اختیارکی ، اس سال پاکستان اپنا پہلا پانڈابانڈ بھی جاری کررہاہے جس کیلئے انتظامات اوراقدامات کاسلسلہ جاری ہے، حکومت نے یورپی بانڈز کی بروقت ادائیگی بھی کردی ہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ جاری مالی سال کے اختتام پرسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائرکو18ارب ڈالرتک لانے کاہدف مقررکیاہے جوتین ماہ کی درآمدات کے کیلئے کافی ہے۔انہوں نے کہاکہ معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات کاعمل مسلسل جاری ہے،ٹیکس کے نظام میں پیپل،پراسیس اورٹیکنالوجی کی بنیادپراصلاحات ہورہی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ ٹیکس کی بنیادمیں وسعت اورجی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں اضافے کیلئے کام جاری ہے جس کے اچھے اثرات سامنے آئے ہیں، جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں اضافہ ہورہاہے اورہماری کوشش ہے کہ اسے بتدریج بین الاقوامی معیار کے مطابق لایاجائے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی صنعتوں کومسابقتی بنانے کیلئے کسٹم ڈیوٹی ،ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی اورریگولیٹری ڈیوٹیز کی شرح میں کمی ، برآمدی صنعتوں کی ترقی کیلئے خام مال پرٹیکسوں اورڈیوٹیز میں کمی کی گئی۔ وزیرخزانہ نے کہاکہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات کاعمل جاری ہے،گردشی قرضوں میں کمی اورڈسکوز کی کارگردگی میں بہتری کیلئے کئی اقدامات کئے گئے ہیں جن کے بہترنتائج سامنے آرہے ہیں ،سبسڈیز میں بھی کمی آئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی حکومت کے حجم میں کمی(رائٹ سائزنگ)بارے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں، سبسڈیز کے غلط استعمال پریوٹیلی سٹورز کارپویشن سمیت کئی اداروں کوبندکیاگیاہے۔وزیرخزانہ نے کہاکہ وزیراعظم کی قیادت میں حکومت اس بات پریقین رکھتی ہے کہ نجی شعبیکوملک کی قیادت کرنی ہے،اس ضمن میں نجکاری کاعمل جاری ہے، پی آئی اے اورفرسٹ ویمن بینک کی نجکاری ہوئی ،یہ بات خوش آئند ہے کہ نجکاری کے عمل میں ہمارے مقامی سرمایہ کاروں نے گہری دلچسپی ظاہر کی جس سے معاشی ترقی ، اصلاحات کے عمل اوربہترپالیسیوں پرسرمایہ کاروں کے اعتمادکی عکاسی ہورہی ہے۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ قرضوں کے انتظام وانصرام میں بہتری کیلئے بھی کام جاری ہے، ڈیبٹ منیجمنٹ آفس کی ری سٹرکچرنگ کی گئی ہے، قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں بتدریج کمی آئیگی، پنشن کے نظام میں بھی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں،سول سروس میں کنٹریبیوٹری پنشن کانظام متعارف کرایاگیاہے،آئندہ سال سے مسلح افواج میں یہ نظام متعارف کرایا جائے گا۔