m سیلز ٹیکس فراڈ اور سائبر ہیکنگ کا بڑا اسکینڈل بے نقاب

41 کروڑ سے زائد جعلی ٹرانزیکشنز، اربوں روپے کے جی ایس ٹی پر اثرات، ایف ٹی او کی تحقیقات کا حکم، ایف بی آر کو 60 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت

بدھ 29 اپریل 2026 19:10

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 29 اپریل2026ء) فیڈرل ٹیکس محتسب (FTO) نے سیلز ٹیکس فراڈ اور سائبر ہیکنگ کے ایک بڑے اسکینڈل کا انکشاف کرتے ہوئے 41 کروڑ روپے سے زائد کی جعلی ٹرانزیکشنز سامنے آنے کی تصدیق کی ہے۔رپورٹ کے مطابق ہیکرز نے ٹیکس دہندگان کے آئرس (IRIS) سسٹم پروفائلز تک غیر قانونی رسائی حاصل کر کے ٹیکس ریٹرنز میں رد و بدل کیا، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے کے ٹیکس کریڈٹ متاثر ہوئے۔

مزید برآں، جعلی سپلائیز کے ذریعے تقریباً 74 کروڑ 80 لاکھ روپے کے جی ایس ٹی پر بھی اثر پڑنے کا انکشاف ہوا ہے۔ایف ٹی او کے مطابق اس نیٹ ورک نے بلیک لسٹڈ اور غیر فعال ٹیکس دہندگان کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ ابتدائی شواہد سے اندرونی ملی بھگت کا بھی پتہ چلتا ہے، جس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور پراًل (PRAL) کے بعض اہلکاروں پر شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

تحقیقات کے مطابق یہ نیٹ ورک کراچی، لاہور، ملتان، کوئٹہ اور اسلام آباد میں فعال رہا۔ایف ٹی او نے معاملے کی جامع تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ایف بی آر کو 60 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ساتھ ہی بائیومیٹرک تصدیق اور لاگ اِن سسٹم کو مزید سخت بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ ٹیکس کریڈٹ کی فوری بحالی ممکن نہیں، جبکہ سائبر سیکیورٹی کی خامیوں نے موجودہ نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایف ٹی او نے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے۔