اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک بھی جاری

منگل 5 مئی 2026 20:50

اپریل میں بارشیں معمول سے زیادہ ریکارڈ، آئندہ 3ماہ کا موسمی آئوٹ لک ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) محکمہ موسمیات نے موسم پر مبنی اپریل کی رپورٹ جبکہ رواں برس مئی، جون اور جولائی کی موسمی آئوٹ لک جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق اپریل 2026ء میں ملک بھر میں بارش معمول سے 65فیصد زیادہ ہوگئی، ملک میں اوسط بارش 41.1ملی میٹر رہی۔ سندھ میں بارش معمول سے 169فیصد جبکہ پنجاب میں 109فیصد زیادہ ریکارڈ کیا گیا۔

خیبرپختونخوا میں بارش 48فیصد زیادہ جبکہ گلگت بلتستان میں معمول سے کم رہی۔اپریل میں ملک کا اوسط درجہ حرارت پچیس ڈگری سینٹی گریڈ رہا، سب سے زیادہ درجہ حرارت 47.5ڈگری شہید بینظیر آباد میں ریکارڈ ہوا، مٹھی اپریل کا گرم ترین شہر قرار،اوسط درجہ حرارت 39.9ڈگری رہاکالام میں کم سے کم درجہ حرارت 1.5ڈگری رہا، بگروٹ گلگت بلتستان سرد ترین مقام قرار، اوسط کم درجہ حرارت پانچ اعشاریہ پانچ ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔

(جاری ہے)

پاراچنار اپریل کا سب سے زیادہ بارش والا شہر رہا ،جہاں 283.6ملی میٹر ہوئی، اپریل کے دوران مغربی ہواں کے باعث مختلف علاقوں میں برفباری اور ژالہ باری ہوئی۔ میدانی علاقوں میں گرمی میں اضافہ جبکہ آخر میں گرم اور خشک موسم برقرار رہا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نیوٹرل انڈیکس برقرار، آئندہ مہینوں میں ایل نینو کے امکانات ہیں، انڈین اوشن ڈائی پول بھی نیوٹرل مرحلے میں داخل ہوگیا۔

دوسری جانب محکمہ موسمیات نے رواں برس مئی، جون اور جولائی کی موسمیاتی آٹ لک جاری کر دی جس میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ ملک کے جنوبی علاقوں میں معمول سے کم بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق خریف کی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے،بارانی علاقوں کی فصلوں کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے، بالائی علاقوں میں اضافی بارش سے پانی کے ذخیروں میں بہتر ہونے کی توقع ہے۔

شمالی علاقوں میں شدید بارشوں سے فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے، پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے، جنوبی پنجاب اور سندھ میں ہیٹ ویو کی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ،آندھی،گرد آلود طوفان اور ژالہ باری کا خطرہ بن سکتا ہے، موسمی شدت سے فصلوں، انفرااسٹرکچر اور ٹرانسپورٹ متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، گلگت بلتستان اور کشمیر میں درجہ حرارت بڑھنے سے برف پگھلنے کی رفتار تیز ہو گی، گلیشئر سے متعلقہ خطرات اور دریاوں میں پانی کی سطح بڑھنے کا امکان ہے، زیادہ درجہ حرارت سے کیڑوں اور بیماریوں میں اضافہ، فصلوں کو نقصان کا خدشہ ہے،ڈینگی سمیت ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں کے پھیلا کا خطرہ بڑھے گا۔