اپنے آئینی اورجائزحقوق کے حصول کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اتحاد اور سنجیدگی کے ساتھ کردار ادا کرنا ہوگا،فیصل کنڈی

منگل 5 مئی 2026 20:36

اپنے آئینی اورجائزحقوق کے حصول کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اتحاد اور ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 05 مئی2026ء) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اپنے آئینی اور جائز حقوق کے حصول کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو اتحاد اور سنجیدگی کے ساتھ کردار ادا کرنا ہوگا۔ وفاقی حکومت نیا این ایف سی ایوارڈ جلد از جلد جاری کریں، خیبرپختونخوا کے حصے پر نظرثانی کی جائے تاکہ صوبے کی ترقی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز فیڈرل یوتھ پارلیمینٹ پاکستان کے زیر اہتمام گورنر ہاؤس میں منعقدہ نیشنل فنانس کمیشن کے عنوان سے منعقدہ مکالمے سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمدکریم کنڈی، سابق صوبائی وزراء عنایت اللہ خان، سکندرشیرپاؤ، رکن صوبائی اسمبلی نثار باز ،ایڈوکیٹ عالم خان ، وفا وزیر سمیت اراکین صوبائی اسمبلی اور فیڈرل یوتھ پارلیمنٹ کے عہدیداروں اوراراکین سمیت طلباء وطالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

(جاری ہے)

تقریب میں مقررین نے نیشنل فنانس کمیشن کے ذریعے وسائل کی تقسیم سے متعلق تفصیلی گفتگو کی اور آئندہ صوبوں کیلئے این ایف سی ایوارڈ جاری کرنے کیلئے اپنی تجاویز وآراء پیش کیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے فیڈرل یوتھ پارلیمنٹ پاکستان کو اس اہم موضوع پر بحث و مکالمے کے انعقاد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کی ترقی، امن و امان اور مجموعی معاملات میں نوجوانوں کی فعال شمولیت نہایت ضروری ہے۔

گورنر نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ صرف مالی تقسیم کا معاملہ نہیں بلکہ انصاف، برابری اور قومی یکجہتی کا امتحان ہے۔ 7واں این ایف سی ایوارڈ 2010 میں طے پایا تھا، تاہم 2010 کے بعد نیا این ایف سی ایوارڈ تاحال تشکیل نہیں دیا جا سکا، جو کہ ایک انتظامی تاخیر کے ساتھ ساتھ صوبوں کے حقوق کا مسئلہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ سابقہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد صوبے کی آبادی، رقبہ اور ذمہ داریاں بڑھ چکی ہیں، جس کے باعث موجودہ این ایف سی فارمولے پر نظرثانی ضروری ہے۔

صوبے کا حصہ بڑھایا جائے تاکہ ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی منصوبے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ گورنر نے کہاکہ خیبرپختونخوا میں ہائیڈل پاور کی استطاعت سب سے زیادہ ہے ، انہوں نے نیٹ ہائیڈل پرافٹ کی بروقت ادائیگی کو آئینی حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تاخیر صوبے کی مالی مشکلات میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص 3 فیصد شیئر کی مکمل فراہمی نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت گورنر وہ صوبے کے حقوق کیلئے اپناکردار ادا کرتے رہیں گے ۔گورنرنے کہاکہ خیبرپختونخوا تیل ، گیس اور بجلی پیدا کرنے والا صوبہ ہے ،ہمیں اپنے نوجوانوں کو صوبے کی حقوق سے متعلق شعور پیدا کرناہوگا۔ انہوں نے کہاکہ گورنر ہاؤس کی تاریخ میںپہلی مرتبہ آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد کیا جس کا مقصد صوبائی حقوق پر مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا تھالیکن حکومت کی جانب سے کوئی شریک نہیںہوا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنامقدمہ وفاق کیساتھ دلیل اوردلائل کیساتھ لڑناہوگا اوراس کیلئے صوبائی حکومت کو آگے آناہوگا۔