ڈینگی کے تدارک کیلئے ضلعی ایمرجنسی اینڈ ریسپانس کمیٹی کا اجلاس، فیلڈ سرگرمیوں اور سرویلنس پر تفصیلی بریفنگ

بدھ 29 اپریل 2026 20:30

راولپنڈی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اپریل2026ء) راولپنڈی میں ڈینگی کی روک تھام کیلئے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی اینڈ ریسپانس کمیٹی کا اہم اجلاس ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر عبدالرحمن خان اور کابینہ کمیٹی برائے ڈینگی کے رکن ڈاکٹر وسیم اکرم کی مشترکہ صدارت میں ڈپٹی کمشنر آفس کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی جبکہ ڈینگی صورتحال، سرویلنس اور جاری اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈکوارٹر عبدالرحمن نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ تمام محکمے ڈینگی کے خاتمے کیلئے فیلڈ میں اپنی موجودگی مزید مؤثر بنائیں اور ہائی رسک یونین کونسلز میں سرویلنس کو تیز کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد ڈینگی سرگرمیوں میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی اور روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی کی مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے۔

(جاری ہے)

ممبر کابینہ کمیٹی برائے ڈینگی ڈاکٹر وسیم اکرم نے اپنے خطاب میں زور دیا کہ بین الادارہ جاتی کوآرڈینیشن کو مزید مضبوط بنایا جائے اور ہاٹ اسپاٹس پر خصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ بروقت کارروائیاں ہی ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ سال 2026 کے دوران راولپنڈی میں اب تک 933 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں 1 کنفرم، 26 نان ڈینگی جبکہ 906 مشتبہ کیسز شامل ہیں۔

بریفنگ کے مطابق ضلع بھر میں ان ڈور ویکٹر سرویلنس کے تحت 16 لاکھ سے زائد گھروں کی چیکنگ کی گئی جن میں 14 ہزار سے زائد گھروں میں لاروا پایا گیا، جبکہ آؤٹ ڈور سرویلنس کے دوران 5 لاکھ 98 ہزار سے زائد مقامات کو چیک کیا گیا جہاں 2 ہزار سے زائد مثبت کیسز سامنے آئے۔ مزید بتایا گیا کہ 13 اپریل سے اب تک 3 لاکھ 45 ہزار سے زائد گھروں اور ایک لاکھ سے زائد آؤٹ ڈور سپاٹس کی نگرانی کی گئی ہے۔

ٹیموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے مختلف تحصیلوں میں ایک ہزار سے زائد ٹیمیں متحرک ہیں۔ اجلاس میں یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ یکم اپریل سے 27 اپریل تک لاروا کیسز کے خلاف کارروائیوں میں 11 ہزار سے زائد کیسز میں سے 98 فیصد پر بروقت رسپانس دیا گیا جبکہ صرف 2 فیصد کیسز زیر التواء ہیں۔ انسدادی اقدامات کے تحت رواں سال 69 مقدمات درج، 201 چالان اور 2 لاکھ 24 ہزار 500 روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ ہاٹ اسپاٹس کی مسلسل نگرانی، فیلڈ ٹیموں کی کارکردگی میں بہتری اور بین الادارہ جاتی کوآرڈینیشن کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ ڈینگی کے ممکنہ پھیلاؤ کو بروقت روکا جا سکے۔آخر میں شہریوں سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ اپنے اردگرد صفائی کا خیال رکھیں اور پانی کھڑا نہ ہونے دیں تاکہ ڈینگی مچھر کی افزائش کو روکا جا سکے۔