ویمن انٹرپرینیور شپ کے فروغ کیلئے سمیڈا اور جائیکا کے تاریخ سا ز مشترکہ منصوبے کا آغاز

جمعرات 30 اپریل 2026 22:36

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 اپریل2026ء) سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) اور جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کے ایک تاریخی منصوبے کا جمعرات کو یہاں ایک مقامی ہوٹل میں باقاعدہ افتتاح کر دیا گیاہے ۔ افتتاحی تقریب سے سمیڈا کی سی ای او نادیہ جہانگیر سیٹھ اور جا ئیکا کی چیف ایڈوائزر چیو مامیا کے علاوہ سمیڈا کے جنرل منیجر جینڈر اینڈ سسٹین ایبلیٹی شہریار طاہر اور متعدد دیگر جاپانی اور پاکستانی ماہرین نے خطاب کیا۔

تقریب میں بتا یا گیا کہ مذکورہ پانچ سالہ اقدام پنجاب میں غیر رسمی اقتصادی شعبے میں خواتین پر مبنی کاروباروں میں اضافے کے عنوان سے شروع کیا گیا ہے جو کہ سمیڈا اور جائیکا کے اشتراک عمل سے خواتین کیلئے ایک تاریخی منصوبہ ہے۔

(جاری ہے)

اپنے افتتاحی کلمات میں۔سمیڈا کی چیف ایگزیکٹو آفیسر نادیہ جہانگیر سیٹھ نے کہا کہ ان کی تنظیم کا جائیکا کے ساتھ تعاون سمیڈا کی جانب سے وزارت صنعت و پیداوار کے تحت وزیر اعظم پاکستان کے ترقیاتی وژن کے مطابق ویمن انٹر پرینیورز کے تعداد میں اضافے کیلئے سازگار ماحول کی تشکیل کی بنیاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ پراجیکٹ سمیڈا کی ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے، خواتین کو مدد فراہم کرنے، مالیات تک ان کی رسائی کو بہتر بنانے اور مارکیٹ کے روابط کو آسان بنانے پر مرکوزہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین انٹرپرینیورشپ سمیڈا کے تین سالہ بزنس پلان کا ایک اہم ستون ہے اور یہ انتہائی اطمینان کی بات ہے کہ سمیڈا کی جانب سے تیار کی گئی پاکستان کی پہلی ویمن انٹرپرینیورشپ پالیسی کو بہت جلد وفاقی کابینہ سے منظوری ملنے والی ہے۔

انہوں نے جائیکا کی ٹیم کا خیرمقدم کیا، جس نے اس منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ پنجاب کی خواتین کی مالیاتی اور ڈیجیٹل خواندگی کو بہتر بنانے، قرضوں تک رسائی، مارکیٹ تک رسائی اور برآمدی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے مقاصد کو حاصل کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم تکنیکی مدد کی فراہمی پر جائیکاکے شکر گزار ہیں ۔سٹریٹجک کمیونیکیشن سپیشلسٹ صدف عابد نے پاکستان میں پائیدار ترقی میں خواتین کی شمولیت کی اہمیت پر ایک پریذنٹیشن پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کو معاشی اور سماجی رکاوٹوں کا سامنا ہے لیکن وہاں حکومت پاکستان میں سمیڈا کے توسط سے مواقع کی ایک کھڑکی بھی کھول دی ہے جو حالات کو بتدریج خواتین کے حق میں موڑنے میں کامیاب ہو رہی ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جائیکا کی چیف ایڈوائزر چیو مامیا نے اس پراجیکٹ کا ایک جائزہ پیش کیا اور کہا کہ اسے پہلے مرحلے میں لاہور اور سیالکوٹ میں پائلٹ کیا جائے گا اور اس کا مقصد پنجاب بھر میں 2000خواتین اور خواجہ سرائوں کو پانچ سال کے اندر معیشت کا حصہ بنانا ہے اور اس ضمن میں انہیں سپورٹس، ٹیکسٹائل گڈز اور سروسز جیسے شعبوں میں فعال بنایا جائے گا۔

قبل ازیں سمیڈا کے جی ایم جینڈر اینڈ سسٹین ایبلٹی ڈویژن شہریار طاہر نے خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے تنظیم کے اقدامات اور منصوبے کے مقاصد کے بارے میں بتایا۔تقریب کے بعد ایک انٹرایکٹو ورکشاپ کا آغاز ہوا جس میں جائیکا کی جینڈر ایکسپرٹ مس سونل دھانانی نے صنفی مسائل پر مختلف اہم نکات کو اجاگر کیا۔