کارانداز پاکستان نے ای-انوائسنگ اور زرعی اسپاٹ ٹریڈنگ پر تحقیقی مطالعات جاری کر دیئے

منگل 16 جون 2026 18:51

کارانداز پاکستان نے ای-انوائسنگ اور زرعی اسپاٹ ٹریڈنگ پر تحقیقی مطالعات ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جون2026ء) کارانداز پاکستان نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور اقتصادی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینے کے لیے ای-انوائسنگ اور زرعی اسپاٹ ٹریڈنگ سے متعلق دو اہم تحقیقی مطالعات جاری کر دیئے ہیں۔اس سلسلے میں ڈیجیٹلائزنگ ٹرانزیکشنز: پاکستان میں ای-انوائسنگ اور زرعی اسپاٹ ٹریڈنگ پر بصیرت افروز جائزہ کے عنوان سے ایک تقریب اور اسٹیک ہولڈرز ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں پالیسی سازوں، ریگولیٹری اداروں، مالیاتی شعبے، نجی کاروباری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب کے دوران پاکستان میں ای-انوائسنگ اور پنجاب میں زرعی اسپاٹ ٹریڈنگ کے لیے فزیبلٹی اسٹڈی کے عنوان سے دو تحقیقی رپورٹس جاری کی گئیں۔

(جاری ہے)

مطالعات میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ جدید ڈیجیٹل ٹرانزیکشن انفراسٹرکچر کس طرح مالیاتی شمولیت، مارکیٹ کی شفافیت، کاروباری سہولتوں اور معیشت کی دستاویزی شکل کو فروغ دے سکتا ہے۔کارانداز پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر وقاص الحسن نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کے دور میں داخل ہو رہا ہے اور اس ضمن میں تحقیق اور پالیسی مکالمہ ادارہ جاتی اصلاحات اور جدید فریم ورک کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کارانداز گزشتہ ایک دہائی سے عوامی و نجی شعبے کے اشتراک سے پاکستان کے ڈیجیٹل مالیاتی ایکوسسٹم کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہا ہے، جس میں راست (RAAST) جیسے اہم اقدامات بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق ای-انوائسنگ نظام کاروباری لین دین میں شفافیت بڑھانے، ٹیکس قوانین پر عملدرآمد بہتر بنانے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے مالیاتی سہولتوں تک رسائی آسان بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

تحقیق میں پاکستان میں اس نظام کے نفاذ کے امکانات اور درپیش چیلنجز کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔دوسری جانب زرعی اسپاٹ ٹریڈنگ سے متعلق تحقیق میں پنجاب میں زرعی اجناس کی خرید و فروخت کے لیے ایک منظم اور شفاف مارکیٹ نظام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ مطالعے کے مطابق الیکٹرانک ویئر ہاس رسیدی نظام (Electronic Warehouse Receipt System) قیمتوں کے موثر تعین، مارکیٹ شفافیت اور کسانوں کی مالیاتی سہولتوں تک رسائی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کے کمشنر برائے سیکیورٹیز مارکیٹس ڈویژن علی فرید خواجہ نے کہا کہ ای-انوائسنگ اور الیکٹرانک ویئر ہاس رسیدیں پاکستان کو روایتی اور غیر مربوط لین دین کے نظام سے جدید اور قابل اعتماد ڈیجیٹل مارکیٹ انفراسٹرکچر کی جانب منتقل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس ای سی پی ذمہ دارانہ جدت، مارکیٹ اعتماد اور شفافیت کے فروغ کے لیے سازگار ضابطہ جاتی فریم ورک کی حمایت جاری رکھے گا۔

اس موقع پر دو پینل مباحثے بھی منعقد کیے گئے جن میں ای-انوائسنگ کے ذریعے معاشی دستاویزکاری، ایس ایم ای فنانسنگ، زرعی منڈیوں میں شفافیت، قیمتوں کے تعین اور مارکیٹ تک رسائی کے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔شرکا نے اس امر پر اتفاق کیا کہ جدید ڈیجیٹل ٹرانزیکشن انفراسٹرکچر پاکستان کی معیشت کو زیادہ شفاف، مربوط اور پائیدار بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیق، پالیسی اصلاحات اور موثر اسٹیک ہولڈر تعاون کے ذریعے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور جامع اقتصادی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔